پاکستاناہم خبریں

امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کاکس کی جانب سے پاک-امریکہ تعلقات کے حوالے سے تاریخی سمپوزیئم کا انعقاد

کیپٹل ہل کی تاریخی عمارت میں پاک امریکہ تعلقات پر گہری بحث، سیکیورٹی، معاشی تعلقات اور مستقبل کی ممکنہ شراکت داری پر خصوصی توجہ

مدثر احمد- امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کاکس نے پاک-امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی سمپوزیئم کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کے ماضی، حال اور مستقبل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ یہ سمپوزیئم امریکی کانگریس کی کیپٹل ہل کی تاریخی عمارت میں 25 مارچ 2026 کو ہوا اور تقریباً چار گھنٹے جاری رہا۔ اس سمپوزیئم کا اہتمام پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے امریکی کانگریس کی پاکستان کاکس کے چیئرمین ٹام سوازی اور جیک برگ مین کی سرکردگی میں کیا گیا تھا۔

پاک-امریکہ تعلقات پر خصوصی نشستیں
سمپوزیئم میں امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام، امریکی تھنک ٹینک کمیونٹی، سابق سفراء، سیکیورٹی اور معاشی امور کے ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس نشست کا مقصد پاک-امریکہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنا تھا، جس میں سیکیورٹی، معاشی تعلقات، اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔ سمپوزیئم کے دوران مختلف موضوعات پر نشستیں منعقد کی گئیں، جن میں خاص طور پر سیکیورٹی اور معاشی تعلقات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات کے جائزے کی اہمیت
چئیرمین پاکستان کاکس اور رکن کانگریس ٹام سوازی نے سمپوزیئم کے آغاز میں کہا کہ آج ہم نے پاک-امریکہ دوطرفہ تعلقات کی تاریخ، سیکیورٹی اور معاشی معاملات کا جائزہ لینے اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے دنیا بھر سے ماہرین کو اکٹھا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمپوزیئم دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک اہم کوشش ہے اور اس میں شامل تمام شرکاء اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق عالمی سطح پر اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا خیرمقدم
سمپوزیئم میں امریکی وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا، پال کپور نے بھی شرکت کی اور امریکی انتظامیہ کی نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاک-امریکہ تعلقات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شعبوں بشمول معدنیات میں باہمی طور پر سودمند شراکت داری نے فروغ حاصل کیا۔ پال کپور نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پاکستانی سفیر کا اہم خطاب
پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے سمپوزیئم کے دوران اپنے خطاب میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو تاریخی اور اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کی شراکت داری نہ صرف تاریخی طور پر اہم ہے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے انتہائی نتیجہ خیز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دو بڑی آبادی والے اور اہم ترین ممالک کی شراکت داری اختیاری نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر اہم مقام کا حامل ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کے حوالے سے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور عالمی امن کے لیے آج بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کی اہمیت
پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-امریکہ تعلقات کے تاریخی تناظر میں سیکیورٹی تعاون کا عنصر غالب رہا ہے، تاہم دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی تعاون کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے اور پاکستان امریکہ کے ساتھ بھرپور اور وسیع البنیاد اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان آبادی، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ماہر ہے، امریکی معیشت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کو مکمل طور پر تیار ہے، اور وہ کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے مطابق کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کا کردار
سفیر پاکستان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پاکستانی کمیونٹی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وہ مزید باہمی تعاون کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

معاشی ماہرین کی جانب سے گفتگو
سمپوزیئم میں معروف معاشی ماہرین نے پاکستان کی معاشی استعدادِ کار اور پاک-امریکہ اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے نئے راستوں پر بات کی اور یہ کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کے امکانات بے حد وسیع ہیں۔

نتالی بیکر کا خطاب
پاکستانی سفارتخانے کی ناظم الامور نتالی بیکر نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور اس اہم سمپوزیئم کے انعقاد پر اراکین کانگریس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سمپوزیئم کے ذریعے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون اور تعلقات کے مزید مواقع فراہم ہوں گے۔

مستقبل میں سمپوزیئم کا باقاعدگی سے انعقاد
سمپوزیئم کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک-امریکہ تعلقات پر اس نوعیت کے سمپوزیئم کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور عالمی سطح پر ان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

اختتام
یہ سمپوزیئم نہ صرف پاک-امریکہ تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مستقبل میں بڑھتے ہوئے تعاون کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس اجلاس میں شریک تمام ماہرین اور اراکین کانگریس نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عالمی امن اور استحکام کے لیے بہت اہم ہیں اور انہیں مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button