
پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل جاری، ہزاروں افراد ڈی پورٹ
پنجاب پولیس کی کارروائیاں تیز، سکیورٹی ہائی الرٹ، انخلا پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
لاہور: صوبہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، اور پنجاب پولیس کی جانب سے اب تک لاہور سمیت صوبے بھر سے 33 ہزار سے زائد افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے، جبکہ دیگر غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والوں میں 12 ہزار 565 مرد، 6 ہزار 695 خواتین اور 13 ہزار 760 بچے شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انخلا کے عمل میں مکمل خاندانوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مرحلہ وار جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید افراد کو ملک سے واپس بھیجا جائے گا۔
مختلف کیٹیگریز کے افراد شامل
پنجاب پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں مختلف قانونی حیثیت رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان میں 10 ہزار 505 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت موجود تھے، جبکہ 11 ہزار 100 افراد افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار 416 ایسے غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انخلا کے عمل میں کسی ایک کیٹیگری تک محدود نہیں رہا جا رہا بلکہ حکومت کی پالیسی کے مطابق تمام غیر قانونی یا غیر مجاز طور پر مقیم افراد کو شامل کیا جا رہا ہے۔
ہولڈنگ پوائنٹس اور انتظامات
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اس وقت بھی 349 غیر قانونی مقیم افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں، جہاں ان کی رجسٹریشن، دستاویزی جانچ پڑتال اور دیگر قانونی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان افراد کو جلد ہی ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
ہولڈنگ پوائنٹس پر سکیورٹی اور بنیادی سہولیات کے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انخلا کے عمل کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی بد نظمی پیدا نہ ہو۔
سکیورٹی ہائی الرٹ، سخت ہدایات جاری
عبدالکریم، آئی جی پنجاب نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی مقیم تمام افراد کا انخلا ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت دی کہ وہ اس عمل میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں اور حکومتی پالیسی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس اس حوالے سے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائیاں
آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد نہ صرف غیر قانونی امیگریشن کو کنٹرول کرنا ہے بلکہ ملکی سکیورٹی کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔
حکومتی پالیسی اور آئندہ لائحہ عمل
پنجاب حکومت اور سکیورٹی اداروں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی انخلا کا عمل جاری رکھا جائے گا اور اس ضمن میں مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ مہم نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ ملک بھر میں جاری پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے کو حل کرنا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
اختتام
پنجاب بھر میں جاری اس بڑے پیمانے کے انخلا آپریشن نے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف حکومتی عزم کو واضح کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس نہیں بھیج دیا جاتا، اور اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔


