بین الاقوامیاہم خبریں

ٹرمپ نے ایران کو جنگ بندی کا 15 نکاتی منصوبہ بھیجا، ممکنہ زمینی حملے کی تیاری بھی جاری

ذرائع کے مطابق اس 15 نکاتی منصوبے میں جوہری تنصیبات، یورینیم کی افزودگی اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کئی مطالبات شامل کیے گئے ہیں۔

نئی دہلی: امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ واشنگٹن خطے میں ممکنہ زمینی کارروائی کے پیش نظر مزید فوج اور میرینز بھی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق، یہ 15 نکاتی امن منصوبہ منگل کو پاکستان کے ذریعے ایرانی حکام کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ اے بی سی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ سمندری راستوں سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل نے ان تجاویز پر دستخط کیے ہیں یا نہیں۔

Smoke rises from the site of an Israeli airstrike in Dahiyeh, Beirut's southern suburbs, Monday, March 23, 2026.

تیئس مارچ، 2026 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے مقام سے اٹھتا دھواں (AP)

15 نکاتی مطالبات میں کیا کیا شامل

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 15 نکاتی منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تین اہم جوہری تنصیبات کو ختم کرے، ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کی افزودگی بند کرے، اپنے بیلسٹک میزائل کو معطل کرے، پراکسیوں کی حمایت ترک کرے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے۔

اس کے بدلے میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایران پر جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں ختم ہو جائیں گی، نیز امریکہ اس کے سول نیوکلیئر پروگرام کی مدد اور نگرانی بھی کرے گا۔

امریکہ نے "اسنیپ بیک” میکانزم کو ہٹانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے، جو ایران کی تعمیل میں ناکام ہونے کی صورت میں خودکار پابندیاں دوبارہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔

Smoke billows following an Iranian missile strike in Tel Aviv, Tuesday, March 24, 2026.

منگل 24 مارچ 2026 کو تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں (AP)

اس 15 نکاتی پروگرام میں ایران کی جانب سے نطنز، اصفہان اور فردو جوہری تنصیبات کو ختم کرنے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو اپنی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے "علاقائی پراکسی پیراڈائم” کو ترک کر دے اور اپنی پراکسیوں کی فنڈنگ، رہنمائی اور انہیں مسلح کرنا بند کرے۔

وہیں ایران نے کسی بھی نوعیت کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی یکطرفہ ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ پر تہران کی سختی نے بین الاقوامی جہاز رانی کو ٹھپ کر دیا ہے، ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ دریں اثنا، اسلامی جمہوریہ پر فضائی حملے بھی جاری ہیں جب کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل اور پورے خطے میں مختلف اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیم منگل، 24 مارچ، 2026 کو تل ابیب، اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے مقام کا جائزہ لیتے ہوئے (AP)

مزید فوجیوں کی تعیناتی

دریں اثنا، امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود 50,000 فوجیوں کی مدد کے لیے کم از کم ایک ہزار مزید فوجیوں کو بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون 82ویں ایئر بورن سے کم از کم ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطی میں تعینات کرے گا۔ وہیں بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ تین ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

وہیں اسرائیلی حکام ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی پُرزور وکالت کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ‘قبل از وقت’ جنگ بندی کا اعلان کر سکتی ہے۔

Israeli security forces and rescue team respond at the site of an Iranian missile strike in Tel Aviv, Israel, Tuesday, March 24, 2026.

اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیم منگل 24 مارچ، 2026 کو تل ابیب، اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے مقام پر ریسکیو آپریشن میں مصروف (AP)

مذاکرات کو بڑے چیلنجز کا سامنا

امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واشنگٹن کے بہت سے بدلتے ہوئے مطالبات، خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق نکات پر اتفاق رائے تک پہچنا مشکل ہے۔ تاحال یہ تک واضح نہیں ہے کہ ایران کی حکومت میں بات چیت کا اختیار کس کے پاس ہوگا – یا وہ ٹرمپ کے ان 15 نکاتی مطالبات پر بات چیت کے لیے آمادہ بھی ہوں گے یا نہیں۔ ایران امریکہ کی منشا سے متعلق انتہائی شکوک و شبہات کا شکار ہے، جس نے دو بار اعلیٰ سطحی مذکرات کے دوران ہی تہران پر حملہ کر دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button