
پاکستان: وفاقی وزیر عطا اللہ طارڑ کا جنیوا میں ہونے والے واقعات پر ردعمل، ذاتی مفادات کی قیمت پر قومی مفادات کو نظرانداز کرنا انتہائی قابل مذمت
"ہم نے ان دونوں کو پاکستان میں ویلکم کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے اس دعوت کو مسترد کر دیا اور گرفتاری کے خدشات کو بنیاد بنا کر ملک واپس آ کر سیاسی موقع پرستی کی۔"
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عطا اللہ طارڑ نے جنیوا میں حالیہ سیاسی واقعات پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو قومی مفادات سے فوقیت دینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس سے زیادہ قبیح حرکت کوئی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس بات کا واضح طور پر ذکر کیا کہ پاکستان کے دشمنوں نے جنیوا میں ایک سازش تیار کی جس میں ذاتی مفاد کو قومی مفاد سے بالا تر رکھا گیا۔
عمران خان کے صاحبزادوں کی پاکستان میں واپسی اور انکار
وفاقی وزیر عطا اللہ طارڑ نے کہا کہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دونوں صاحبزادوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہنے کی پیشکش کی تھی تاکہ وہ واپس آ کر ملک میں اپنے والد کے سیاسی ورثے کو تسلیم کریں اور یہاں کے سیاسی نظام میں شرکت کریں۔ تاہم، اس پیشکش کو رد کرتے ہوئے عمران خان کے صاحبزادوں نے گرفتاری کا خوف ظاہر کیا اور اپنی سیاسی مہم کے مفاد میں ایک کہانی گھڑ لی۔
انہوں نے کہا کہ "ہم نے ان دونوں کو پاکستان میں ویلکم کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے اس دعوت کو مسترد کر دیا اور گرفتاری کے خدشات کو بنیاد بنا کر ملک واپس آ کر سیاسی موقع پرستی کی۔” وزیر نے مزید کہا کہ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ یہ لوگ نہ صرف ملک کے دشمن ہیں بلکہ اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے ملک کی ساکھ اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
آئی ایم ایف سے پاکستان کی حمایت نہ کرنے کی کوشش
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے حامیوں نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے پاکستان کو مالی مدد دینے سے انکار کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے اس بات کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ملک دشمن عمل قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی شخصیتیں ملکی مفادات کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی مفادات کے لیے عالمی اداروں میں پاکستان کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عطا اللہ طارڑ نے کہا، "پاکستان کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی اور ایسے اقدامات سے نہ صرف ہماری معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا ہوا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات بھی متاثر ہوئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ یہ لوگ پاکستان کے مفادات کے بجائے صرف اپنی سیاسی پوزیشن اور مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستان کے جی ایس پی پلس کا خاتمہ: ایک اور سازش
وزیر نے کہا کہ عمران خان کے حامیوں نے پاکستان کے جی ایس پی پلس (جنرلized سپورٹ پلس) کا درجہ واپس لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس کا درجہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کے اقتصادی ترقی کے لئے کلیدی ہے۔ ایسے اقدامات پاکستان کی عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
عطا اللہ طارڑ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ کوششیں پاکستان کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں اور ان سے نہ صرف اقتصادی مسائل بڑھیں گے بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔
عارف اجاکیہ سے ملاقات: ایک گہرا سیاسی مسئلہ
وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی شدید نکتہ چینی کی کہ عمران خان کے حامیوں نے جنیوا میں پاکستان کے خلاف عالمی مہم چلانے والے "عارف اجاکیہ” سے ملاقات کی۔ عارف اجاکیہ ایک ایسا شخص ہے جو بیرون ملک پاکستان کے خلاف مہمات چلاتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد جب عمران خان کے حامیوں سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے اس ملاقات سے انکار کیا اور کہا کہ انہیں اس شخص کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔
عطا اللہ طارڑ نے کہا کہ یہ انکار سراسر جھوٹ ہے اور دنیا بھر میں اس ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ لوگ پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دنیا سب کچھ دیکھ رہی ہے اور یہ جھوٹ دیر تک نہیں چھپ سکتے۔” وزیر نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔
ویڈیو ثبوت: حقیقت کا منظر عام پر آنا
وفاقی وزیر نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ان ملاقاتوں اور سرگرمیوں کے ویڈیو ثبوت سامنے آ چکے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ عمران خان کے حامیوں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف عالمی سطح پر سازشیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیوز ان لوگوں کے جھوٹ اور مفاد پرستی کو بے نقاب کر رہی ہیں اور ان کی سیاست کی حقیقت دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔
عطا اللہ طارڑ نے مزید کہا کہ "آپ جو مرضی کر لیں، پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ پاکستان قائم رہے گا اور ترقی کرتا رہے گا، انشاءاللہ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن دنیا بھر میں سازشیں کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان کا عزم پختہ ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔
پاکستان کی ترقی کا راستہ
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور عوام کو متحد رہ کر اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ عالمی سطح پر ملکی مفادات کے دفاع میں مضبوط موقف اپنانے سے گزرے گا۔ "پاکستان کی معیشت اور سیاست کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں داخلی سطح پر استحکام کی ضرورت ہے، اور کوئی بھی سازش ہمیں اس راستے سے نہیں روک سکتی۔”
انہوں نے کہا کہ "پاکستان کو داخلی طور پر مضبوط بنانا اور عالمی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کے مفاد کو ذاتی مفادات سے بلند رکھیں، اور یہی قوم کی ترقی کا راستہ ہے۔”
اختتام
وفاقی وزیر عطا اللہ طارڑ نے جنیوا میں ہونے والے حالیہ واقعات کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لئے قومی مفادات کو نظرانداز کرنا انتہائی قبیح حرکت ہے اور اس کا پاکستان کی سیاست پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عزم پختہ ہے اور کوئی بھی سازش پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتی۔
"پاکستان قائم رہے گا، انشاءاللہ، اور ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔”


