
پاکستان میں پی ایس ایل ٹورنامنٹ آج سے، لیکن شائقین کے بغیر
پاکستان میں ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے اس ٹورنامنٹ کا یہ 11 واں ایڈیشن ہے اور اس کا پہلا میچ آج لاہور قلندرز اور حیدر آباد کنگزمین کے درمیان لاہور میں کھیلا جا رہا ہے۔
ڈی پی اے کے ساتھ
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی عوام کا پسندیدہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) یوں تو ہر سال بڑے جوش و خروش سے اور شائقین سے بھرے ہوئے اسٹیڈیمز میں کھیلا جاتا تھا، لیکن اس سال صورت حال مختلف ہے۔
پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران کی 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے باعث تیل اور توانائی کی قیمتوں میں جو بےتحاشا اضافہ ہوا ہے، اس نے دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا ہے۔
پاکستان، جو اپنی ضروریات کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، اس حد تک متاثر ہوا ہے کہ اس ملک میں توانائی کے ذرائع کی صورت حال تقریباﹰ بحرانی رنگ اختیار کر چکی ہے اور حکومت کو کئی طرح کے بچتی اقدامات کا اعلان کرنا پڑ گیا۔

کرکٹ شائقین اسٹیڈیمز سے غیر حاضر
یہ انہی حالات میں ہوا کہ آج جمعرات سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے 2026ء کے ایڈیشن کے میچوں میں اسٹیڈیمز میں شائقین موجود نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے اس ٹورنامنٹ کا یہ 11 واں ایڈیشن ہے اور اس کا پہلا میچ آج لاہور قلندرز اور حیدر آباد کنگزمین کے درمیان لاہور میں کھیلا جا رہا ہے۔
ملکی حکام کا کہنا ہے کہ اس لیگ کے سبھی میچوں میں اسٹینڈز میں کوئی شائقین نہیں ہوں گے، اس وقت تک جب تک کہ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں پایا جانے والا موجودہ بحران ختم نہیں ہوتا۔

اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے بتایا کہ اس اقدام سے شائقین کو اسٹیڈیمز تک لانے والی ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں ایندھن کی بچت اور دیگر لاجسٹکس کی وجہ سے کافی زیادہ ایندھن بچایا جا سکے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف
پاکستان میں کرکٹ کے نگران ادارے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کے میچوں میں شائقین کی اسٹیڈیمز میں موجودگی کو ممنوع قرار دینے کے فیصلے کا تعلق ان قومی بچتی اقدامات سے ہے، جن کے تحت تمام اسکول پہلے ہی دو ہفتوں کے لیے بند کیے جا چکے ہیں۔
تقریباﹰ 250 ملین کی آبادی والا ملک پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے معدنی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور وہاں فیول کی قیمتوں میں تھوڑا سا اضافہ بھی افراط زر کی شرح میں کافی بلندی اور بجلی کے نرخوں کو مزید بڑھا دینے کا سبب بن سکتا ہے۔

اسی لیے پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں اور بجلی کے نرخ بہت حساس سیاسی معاملہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔
مالی سال 2024ء میں پاکستان نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباﹰ 11 فیصد حصہ صرف معدنی ایندھن کی درآمد پر خرچ کیا تھا۔



