
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز فیکٹ چیک | وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ
طالبان حکومت کی جانب سے کنڑ میں ایک "قبضہ شدہ پاکستانی فوجی چوکی” کو تباہ کرنے کے دعوے کو پاکستان نے بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے وضاحت دی ہے کہ ایسے دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد حقیقت کو مسخ کرنا اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت کا دعویٰ اور اس کا حقیقت سے دور تعلق
طالبان حکومت کی وزارت اطلاعات اور ثقافت نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی سرزمین پر واقع ایک فوجی چوکی پر کامیاب کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں یہ چوکی تباہ ہوگئی۔ تاہم پاکستانی حکام نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو پاکستانی سرزمین پر کوئی فوجی چوکی موجود ہے اور نہ ہی کسی پاکستانی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع نے اس بیان کو مکمل طور پر جھوٹا اور پروپیگنڈا قرار دیا، اور بتایا کہ یہ دعویٰ افغان طالبان حکومت کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی داخلی سیاسی مشکلات اور جنگی پروپیگنڈے کو تقویت دے سکیں۔
"وچہ چناری” افغان علاقے میں واقع ہے
پاکستانی حکام نے مزید کہا کہ جس فوجی چوکی کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل افغان علاقے "وچہ چناری” میں واقع ہے، جو واضح طور پر افغانستان کے جغرافیائی حدود میں آتا ہے اور پاکستان کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ "وچہ چناری” کا ڈھانچہ ایک افغان تنصیب ہے جو افغانستان کے علاقے (34.90° N، 71.30° E) میں واقع ہے، اور یہ کسی بھی پاکستانی فوجی چوکی کے طور پر نہیں جانا جاتا۔
پاکستانی حکام کے مطابق، یہ تنصیب افغان علاقے میں ہے اور پاکستانی سرحد کے قریب واقع نہیں ہے۔ اس علاقے میں نہ تو پاکستانی فوج کا کوئی بیس موجود ہے اور نہ ہی اس سے متعلق کوئی دفاعی سہولت۔ اسی لیے اس دعوے کو بے بنیاد اور غلط سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستانی فوجی چوکی کی مخصوص علامات کا فقدان
پاکستانی حکام نے مزید وضاحت دی کہ طالبان حکومت کے دعوے میں ذکر کیے گئے ڈھانچے میں پاکستانی فوجی چوکی کی تمام مخصوص علامات کی کمی تھی۔ پاکستانی فوجی چوکیوں کی ایک بنیادی شناخت ان پر قومی پرچم کی موجودگی ہے، ساتھ ہی ان کے ارد گرد بین الاقوامی سرحدی باڑ ہوتی ہے جو پاکستانی سرحد کو واضح طور پر نشان زد کرتی ہے۔
تاہم اس دعوے میں ذکر کیا گیا ڈھانچہ ان علامات سے خالی تھا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کسی پاکستانی فوجی چوکی کا حصہ نہیں تھا۔ اس طرح کا دعویٰ صرف گمراہ کن اور غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کے پروپیگنڈے کا حصہ
پاکستانی حکام نے اس دعوے کو طالبان حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ایک طاقتور اور کامیاب ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے۔ پاکستانی حکومت نے کہا کہ طالبان حکومت کے اس طرح کے بیانات حقیقت سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور ان کا واحد مقصد عالمی برادری میں اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پروپیگنڈا کرنا ہے۔
پاکستانی عہدیداروں نے مزید کہا کہ افغانستان میں جاری کشیدگی اور امن کی غیر مستحکم صورتحال کے باوجود، پاکستان ہمیشہ امن کی طرف گامزن رہنے کی کوشش کرتا ہے اور سرحدی معاملات میں ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔
پاکستان کا موقف: حقائق کا دفاع اور جھوٹے دعوؤں کا مقابلہ
پاکستان نے طالبان حکومت کے جھوٹے دعووں کا بھرپور ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا پروپیگنڈا حقیقت کو مسخ کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ان دعوؤں کا مقصد حقیقت سے عوام کو بیگانہ کرنا ہے اور ان جھوٹے بیانات کے ذریعے افغانستان میں جاری جنگی کشیدگی کو بڑھانا ہے۔
پاکستانی حکام نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ سچائی پر مبنی ہوگا اور ان جھوٹے دعوؤں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستان نے اپنے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی سرزمین یا فوجی تنصیبات کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور یہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
پاک-افغان تعلقات اور امن کی ضرورت
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا عمل ضروری ہے۔ پاکستان نے کہا کہ افغان سرحد پر امن و سکون کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فوائد حاصل ہوں اور دونوں ممالک کی سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
پاکستان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو اپنے بیانات میں حقیقت پسندی اختیار کرنی چاہیے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ افغان تنازعے کے حل کے لیے موثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔
نتیجہ
پاکستان نے طالبان حکومت کے دعوے کو جھوٹا اور فریب پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ اس دعوے کو محض افغان طالبان کی جانب سے پروپیگنڈا اور جھوٹ بولنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر افغانستان میں جاری جنگی کشیدگی کو بڑھانا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور فوجی تنصیبات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اس طرح کے جھوٹے دعوؤں کو مسترد کرنے کا عزم رکھتا ہے۔


