
ایران جنگ کے سبھی فریق ’مخلصانہ امن مذاکرات‘ شروع کریں، چین
''اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے
روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں آج کہا، ”اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے، قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کو روکا جائے۔‘‘
ترجمان نے یہ بات اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی کہ آیا چین ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ہونے والے کسی بھی طرح کے مذاکرات سے آگاہ ہے؟

وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ موقف چین ہی کے وزیر خارجہ وانگ یی کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بدھ 25 مارچ کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے اشاروں کی فضا میں ”امن کے لیے امید کی ایک کرن‘‘ دیکھ رہے ہیں۔
ایران کی طرف سے کی جانے والی گزشتہ تردید
رواں ہفتے کے آغاز پر ایران نے ایسی رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی مکالمت میں شریک ہے۔ اس امن بات چیت کا ذکر سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہہ کر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے میں تہران کو دی گئی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد میں پانچ دن کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ”تعمیری مذاکرات‘‘ ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا تھا کہ واشنگٹن ایران میں کس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بہرحال کہا تھا کہ یہ ”بات چیت جاری‘‘ ہے۔
اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کل بدھ کے دن یہ تصدیق تو کر دی تھی کہ ایران امریکہ کی طرف سے بالواسطہ طور پر پیش کردہ ایک تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ساتھ ہی عراقچی نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ”کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
چینی وزارت خارجہ نے بات کھل کر نہیں بتائی
چینی وزارت خارجہ نے اس بات کا انکشاف نہیں کیا کہ آیا بیجنگ جانتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کوئی بات چیت جاری ہے، مگر گزشتہ روز وانگ یی نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ‘محتاط امید پسندی‘ کا اظہار ضرور کیا تھا۔

بیجنگ میں وزارت خارجہ کی طرف سے چینی مصری وزرائے خارجہ کی بات چیت کا جو خلاصہ ایک تحریری بیان میں جاری کیا گیا، اس میں کہا گیا، ”مشرق وسطیٰ میں صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جبکہ ایران اور امریکہ دونوں ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ مکالمت جاری ہے، وہ مکالمت جو امید کی ایک کرن کی وجہ بن رہی ہے۔‘‘
چینی وزیر خارجہ کے الفاظ میں، ”مذاکرات شروع ہو جائیں، تو امن کی امید بھی رہے گی۔‘‘


