بین الاقوامیتازہ ترین

ایران جنگ کے سبھی فریق ’مخلصانہ امن مذاکرات‘ شروع کریں، چین

''اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے

روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ

چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے سبھی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خونریز تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ’بامعنی اور مخلصانہ امن مذاکرات‘ کا آغاز کریں۔

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں آج کہا، ”اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے، قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کو روکا جائے۔‘‘

ترجمان نے یہ بات اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی کہ آیا چین ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ہونے والے کسی بھی طرح کے مذاکرات سے آگاہ ہے؟

اسرائیل میں تل ابیب پر ایرانی راکٹ حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواں
اسرائیل میں تل ابیب پر ایرانی راکٹ حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواںتصویر: Ronen Zvulun/REUTERS

وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ موقف چین ہی کے وزیر خارجہ وانگ یی کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بدھ 25 مارچ کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے اشاروں کی فضا میں ”امن کے لیے امید کی ایک کرن‘‘ دیکھ رہے ہیں۔

ایران کی طرف سے کی جانے والی گزشتہ تردید

رواں ہفتے کے آغاز پر ایران نے ایسی رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی مکالمت میں شریک ہے۔ اس امن بات چیت کا ذکر سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہہ کر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے میں تہران کو دی گئی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد میں پانچ دن کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ”تعمیری مذاکرات‘‘ ہوئے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ و انگ یی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھ
چینی وزیر خارجہ و انگ یی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھتصویر: Yin Bogu/Xinhua/picture alliance

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا تھا کہ واشنگٹن ایران میں کس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بہرحال کہا تھا کہ یہ ”بات چیت جاری‘‘ ہے۔

اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کل بدھ کے دن یہ تصدیق تو کر دی تھی کہ ایران امریکہ کی طرف سے بالواسطہ طور پر پیش کردہ ایک تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ساتھ ہی عراقچی نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ”کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘

چینی وزارت خارجہ نے بات کھل کر نہیں بتائی

چینی وزارت خارجہ نے اس بات کا انکشاف نہیں کیا کہ آیا بیجنگ جانتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین  کوئی بات چیت جاری ہے، مگر گزشتہ روز وانگ یی نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ‘محتاط امید پسندی‘ کا اظہار ضرور کیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچیتصویر: Sha Dati/Xinhua/IMAGO

بیجنگ میں وزارت خارجہ کی طرف سے چینی مصری وزرائے خارجہ کی بات چیت کا جو خلاصہ ایک تحریری بیان میں جاری کیا گیا، اس میں کہا گیا، ”مشرق وسطیٰ میں صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جبکہ ایران اور امریکہ دونوں ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ مکالمت جاری ہے، وہ مکالمت جو امید کی ایک کرن کی وجہ بن رہی ہے۔‘‘

چینی وزیر خارجہ کے الفاظ میں، ”مذاکرات شروع ہو جائیں، تو امن کی امید بھی رہے گی۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button