
روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
عرف عام میں یورپی یونین کی وزیر خارجہ کہلانے والی کایا کالاس نے یہ بات فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافات میں صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون کے ایک اجلاس کے حاشیے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
خفیہ اداروں کی معلومات اور روسی ڈرونز
اس گفتگو میں کایا کالاس نے کہا، ”ہم دیکھ رہے ہیں کہ روس انٹیلیجنس انفارمیشن کے ساتھ ایران کی مدد کر رہا ہے، تاکہ امریکیوں کو ٹارگٹ کیا جا سکے، انہیں ہلاک کیا جا سکے۔ ساتھ ہی روس اب ایران کی ڈرونز کے ساتھ مدد بھی کر رہا ہے، تاکہ تہران خطے کے ممالک پر اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر سکے۔‘‘

یورپی یونین کی اس اعلیٰ اہلکار نے امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر اپنا دباؤ بڑھا دے۔
کالاس نے، جو ماضی میں بالٹک کی جمہوریہ ایسٹونیا کی وزیر اعظم بھی رہ چکی ہیں، صحافیوں کو بتایا، ”یہ سب باتیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔ اگر امریکہ چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ختم ہو جائے، اگر ایران کو حملوں سے روکنا ہے، تو امریکہ کو روس پر بھرپور دباؤ ڈالنا ہو گا، تاکہ پھر ایران بھی ماسکو کی مدد کرنے کے قابل نہ رہے۔‘‘
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ کایا کالاس کے اس موقف سے مراد یہ ہے کہ روس پر دباؤ ڈال کر اسے ایران کی مدد کرنے سے روکا جائے اور جب ایران خلیجی ممالک پر حملوں کے قابل نہیں رہے گا، تو وہ یوکرین کی جنگ میں بھی ماسکو کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔

یوکرین کی جنگ اس مشرقی یورپی ملک میں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور کییف حکومت اور کئی مغربی ممالک کا الزام ہے کہ اس جنگ میں ایران اپنے ڈرونز کے ساتھ مسلسل ماسکو کی مدد کر رہا ہے۔
یوکرینی جنگ کے خاتمے کی کوششیں
ستائیس رکنی یورپی یونین کی اعلیٰ ترین سفارت کار نے جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں یوکرینی جنگ کے بارے میں بھی کھل کر اور براہ راست بات کی۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو یوکرین سے متعلق یہ تشویش ہے کہ روس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں امریکہ کییف پر دباؤ ڈال کر اسے مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنے ریاستی علاقے روس کے حوالے کرنے پر تیار ہو جائے۔

انہوں نے کہا، ”یہ واضح طور پر غلط سوچ ہے۔ یہ مذاکرات کا وہ طریقہ ہے، جس پر روس عمل کر رہا ہے۔ وہ ایسے علاقے مانگ رہے ہیں، جو ان کے کبھی تھے ہی نہیں۔ اسی لیے ہمیں اس بارے میں تشویش ہے اور ہم اس نوعیت کی کوششوں کے ایسا جال قرار دیتے ہیں، جس میں ہمیں پھنسنا نہیں چاہیے۔‘‘
اسی دوران یوکرینی صدر زیلنسکی نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ یوکرین کے لیے اپنی طرف سے سلامتی کی ضمانتوں کو اس بات سے مشروط کرتا رہا ہے کہ کییف حکومت مشرقی یوکرین میں ڈونباس کے وسیع تر علاقے سے روس کے حق میں دستبردار ہونے پر تیار ہو جائے۔



