
آبنائے ہرمز کی بندش، ایران پر ٹیکس وصولی کا الزام
تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں جہاں بااثر افراد اور ممالک ہمیشہ بحرانوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، مگر ایران کی جنگ نے منافع خوری کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
نک مارٹن
ایک ایرانی قانون ساز نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کنٹینروں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے بدلے ٹینکرز سے 20 لاکھ ڈالر تک وصول کر رہا ہے۔ یہ اقدام دنیا کی اس کلیدی آبی گزرگاہ کو ایک "مہنگے ٹول بوتھ” میں تبدیل کر رہا ہے۔
تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں جہاں بااثر افراد اور ممالک ہمیشہ بحرانوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، مگر ایران کی جنگ نے منافع خوری کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
تاہم یہ منافع خوری صرف ایران تک محدود نہیں ہے۔ تقریباً ایک ماہ سے جاری اس تنازعے کے دوران ایندھن فروشوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ابتدائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد ہی تیل کی قیمتیں بڑھا دیں تھیں۔ آئل کمپنیاں بھی 100 ڈالر فی بیرل خام تیل کی قیمت سے غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔

لیکن اب ایران نے مبینہ طور پر تقریباً تمام ایندھن بردار بحری جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے اور "محفوظ گزرگاہ” فراہم کرنے کے نام پر بھاری فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے۔
کیا ایران نے آبی گزرگاہ پر ایک "ٹول بوتھ” قائم کر دیا ہے؟
ایران کا یہ اقدام اس عالمی چیک پوائنٹ کو جہاں سے دنیا کی تیل و گیس کے پانچویں حصے کی سپلائی گزرتی ہے، ایک مہنگے ٹول اسٹیشن میں بدل سکتا ہے۔
اگرچہ کئی ایرانی حکام نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے لیکن رکنِ پارلیمان علاء الدین بروجردی نے سرکاری ٹی وی پر دعویٰ کیا کہ یہ فیس آبنائے ہرمز میں ایک "نئے خودمختار نظام” کے تحت وصول کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد "جنگی اخراجات پورے کرنا” ہے۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری کے بین الاقوامی امور کے ماہر رابرٹ ہیوبرٹ کے مطابق، "اگر اس غیر قانونی ٹیکس کی وصولی ثابت ہو جائے تو یہ بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔”
انہوں نے کہا، "خودمختار اور آزاد آمد و رفت بین الاقوامی تجارت کی بنیاد ہے۔ اگر کوئی ملک اس پر محصولات عائد کرنا شروع کر دے تو تقریباً ہر ریاست اس کی مخالفت کرے گی۔”
’اصل مسئلہ فیس نہیں سکیورٹی‘
اینالیٹکس فرم زینیٹا کے چیف تجزیہ کار پیٹر سینڈ کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ فیس نہیں بلکہ سکیورٹی کی عدم موجودگی ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "20 لاکھ ڈالر تک رقم وصول کرنے سے زیادہ بڑا مسئلہ ان بحری جہازوں کی حفاظت کا ہے۔”
اس کے باوجود، بڑے تیل و گیس درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری فیس ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کرتی ہے کہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک اس کے حصول کے لیے کس قدر بے چین ہیں۔
میری ٹائم پبلیکیشن لائیڈز لسٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ادائیگیاں کس طرح ہوئی ہیں کیونکہ ایران پر لاگو پابندیوں کے باعث تہران کا ڈالر میں لین دین کرنا مشکل ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق بھارت، پاکستان، عراق، ملائیشیا اور چین ایران سے براہِ راست رابطے میں ہیں تاکہ اپنے جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔
نشریاتی ادارے بلومبرگ کا دعوی ہے کہ کئی جہازوں نے یہ فیس ادا کی ہے۔ تاہم فی الحال رقم کی وصولی کا یہ عمل منظم نہیں۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران اس فیس کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا حصہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔
‘غیر دشمن ممالک‘ کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت
ایران نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ "غیر دشمن ممالک” کے تجارتی جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت ہے۔ تاہم ان ممالک کا ایران کے سیاسی نظریات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اس کی ایک بنیادی شرط ہے۔
پیٹر سینڈ کے مطابق، "اب تک ایران روزانہ تین سے پانچ کنٹینرز کو ٹرانزٹ کی منظوری دے رہا تھا۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ اگر آپ ایران کے دشمن نہیں، تو راستہ کھلا ہے۔”
آئی ایم او اسی دوران پھنسے ہوئے تقریبا 3 ہزار سے زائد بحری تجارتی جہازوں کے محفوظ انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔

یورپی ممالک کا اجتناب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی نیٹو اتحادیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ خلیج میں مال بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ بحری مشن میں شامل ہوں۔ یورپی ممالک فوری شمولیت سے گریزاں ہیں مگر جرمنی، فرانس اور اٹلی نے عندیہ دیا ہے کہ جاری جنگ رکنے کے بعد وہ تعاون پر آمادہ ہوں گے۔



