
قاسم خان کی تقریر اور جی ایس پی پلس سٹیٹس سے متعلق بحث حقائق اور تاثر میں فرق واضح
یہ بات اہم ہے کہ یہ تقریر نہ تو یورپی یونین کے کسی ادارے میں کی گئی اور نہ ہی یورپی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر۔
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حالیہ دنوں میں سوشل اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ ایک حالیہ تقریر کے بعد پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، تاہم دستیاب معلومات اور ماہرین کی رائے کے مطابق یہ خدشات فی الحال مبالغہ آمیز دکھائی دیتے ہیں۔
قاسم خان نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کی معطلی یا خاتمے کا براہِ راست کوئی ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کی تقریر کا محور انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق نکات تھے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تقریر
قاسم خان نے اپنی تقریر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کی، جو ایک عالمی سطح کا فورم ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ یہ تقریر نہ تو یورپی یونین کے کسی ادارے میں کی گئی اور نہ ہی یورپی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے:
- عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا
- آزادیٔ اظہارِ رائے کے مسائل کو اجاگر کیا
- اپنے والد کے ساتھ مبینہ سلوک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا
جی ایس پی پلس کیا ہے؟
جی ایس پی پلس (GSP+) دراصل یورپی یونین کا ایک خصوصی تجارتی پروگرام ہے، جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہوتی ہے۔
اس پروگرام کے اہم نکات میں شامل ہیں:
- متعدد مصنوعات پر ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی رسائی
- 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کی شرط
- انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور گڈ گورننس
پاکستان کو یہ سٹیٹس 2014 میں دیا گیا تھا، جبکہ 2023 میں اسے مزید توسیع دے کر 2027 تک بڑھا دیا گیا۔
انسانی حقوق اور جی ایس پی پلس کا تعلق
اگرچہ قاسم خان نے جی ایس پی پلس کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی تقریر میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے، لیکن بعض واقعات ان وعدوں سے متصادم ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے:
- انسانی حقوق کی پاسداری
- آزادیٔ اظہار
- عدالتی اور حکومتی شفافیت
اہم شرائط میں شامل ہیں، جن کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔
ماہرین کی رائے: فوری خطرہ نہیں
سابق وزیرِ مملکت اور ماہرِ معیشت ہارون شریف نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قاسم خان کی تقریر کا جی ایس پی پلس سٹیٹس سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کے مطابق:
- تقریر اقوام متحدہ کے فورم پر ہوئی، نہ کہ یورپی ادارے میں
- جی ایس پی پلس کا ذکر بھی نہیں کیا گیا
- یورپی یونین ہر تین سال بعد باقاعدہ جائزہ لیتی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ سٹیٹس برقرار رہے۔
عالمی حالات اور ممکنہ اثرات
ہارون شریف نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی سطح پر کشیدگی بڑھی اور یورپی معیشت دباؤ کا شکار ہوئی، تو یورپی ممالک تجارتی مراعات پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔
اسی حوالے سے ماہرِ معیشت ڈاکٹر اکرام الحق نے بھی کہا کہ:
- جی ایس پی پلس سے متعلق فیصلے یورپی یونین اپنی رپورٹس کی بنیاد پر کرتی ہے
- کسی ایک تقریر کا اس پر فوری اثر نہیں ہوتا
پاکستان کی موجودہ پوزیشن
ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس کے تحت ملنے والی تجارتی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، اور فی الحال اس سٹیٹس کے فوری خاتمے کا کوئی واضح خطرہ نہیں ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ:
- انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانا ضروری ہے
- جمہوری اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی
- عالمی سطح پر اعتماد برقرار رکھنا اہم ہے
نتیجہ: ذمہ دارانہ پیش رفت کی ضرورت
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قاسم خان کی تقریر نے اگرچہ انسانی حقوق کے حوالے سے بحث کو ضرور تقویت دی ہے، لیکن اس کا پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر فوری یا براہ راست اثر نہیں پڑتا۔
البتہ طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی معیارات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ نہ صرف یہ سٹیٹس برقرار رہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی مضبوط ہو۔



