
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،فارن آفس کے ساتھ
اسلام آباد/یواوندے: کیمرون کے دارالحکومت یواوندے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کی چودہویں وزارتی کانفرنس جاری ہے، جس میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے، بلال اظہر کیانی کی قیادت میں پاکستانی وفد بھرپور شرکت کر رہا ہے۔ یہ کانفرنس عالمی تجارتی نظام میں اصلاحات، کثیرالجہتی مذاکرات، اور ترقیاتی ایجنڈے کی ترقی پر مرکوز ہے، اور اس میں عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں توازن اور انصاف کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
پاکستانی وفد نے اس عالمی فورم پر اپنی بھرپور موجودگی کو یقینی بنایا ہے اور عالمی تجارت میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اہم اصلاحاتی سیشنز میں حصہ لیا ہے۔ اس دوران پاکستانی وفد نے نہ صرف مختلف تجارتی مسائل پر مذاکرات کیے بلکہ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ پاکستان کے تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
پاکستان کا عالمی تجارتی نظام میں موقف:
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کانفرنس میں پاکستان کے موقف کا بھرپور طور پر دفاع کیا، جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، جامعیت اور لچکدار اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ تمام ممالک کو یکساں تجارتی مواقع ملیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان عالمی تجارتی منظرنامے میں ایک فعال اور مساوی شریک کے طور پر اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے اس موقع پر کہا کہ "پاکستان کا عزم عالمی تجارتی نظام کی اصلاحات میں فعال کردار ادا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کثیرالجہتی مذاکرات کے تحت ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔”
انہوں نے عالمی تجارت میں برابری کے اصولوں کی حمایت کرتے ہوئے کثیرالجہتی مذاکراتی عمل کو اہم قرار دیا اور یہ کہا کہ عالمی تجارتی نظام میں شفافیت اور مساوات کا اضافہ ہونے سے ترقی پذیر ممالک کو عالمی سطح پر فائدہ ہوگا۔
ڈبلیو ٹی او کے زرعی امور کے لیے ‘منسٹر فسیلیٹیٹر’ کا انتخاب:
اس وزارتی کانفرنس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کو ڈبلیو ٹی او کے زرعی امور کے لیے بطور ‘منسٹر فسیلیٹیٹر’ منتخب کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس حیثیت میں انہوں نے برطانیہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ پیٹر کیل، ترکیہ کے وزیر تجارت ڈاکٹر عمر بولت اور جاپان کے نائب وزیر زراعت، جنگلات و ماہی گیری یوکی نورو نیموٹو کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔
اہم عالمی ملاقاتیں:
بلال اظہر کیانی کی عالمی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں کا سلسلہ مزید وسیع رہا، جس میں انہوں نے چین، امریکہ، برازیل، یورپی یونین، کینیڈا، ارجنٹائن، کیمرون اور موزیمبیک کے اعلیٰ حکام سے بھی مشاورت کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کاٹن فور (COTTON-4) ممالک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جو عالمی سطح پر کپاس کے اہم تجارتی کھلاڑی ہیں۔
ان ملاقاتوں میں بلال اظہر کیانی نے عالمی تجارتی نظام کے قواعد و ضوابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ایک مضبوط اور قوانین پر مبنی عالمی تجارتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ عالمی تجارتی تعلقات میں توازن قائم کیا جا سکے۔” اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عالمی غذائی تحفظ کے مسئلے پر بھی تفصیل سے بات کی اور اس بات کو اجاگر کیا کہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کسانوں کی حالت بہتر کی جا سکتی ہے اور عالمی سطح پر غذائی بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی:
پاکستان کے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی جانب سے عالمی تجارتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجاویز کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ جنیوا میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز حسین نے اس مشن میں بلال اظہر کی معاونت کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید تقویت دی۔
اس ضمن میں، شریک ممالک نے پاکستان کے موقف کو سراہا اور مجوزہ اعلامیہ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اس موقف کی حمایت سے عالمی تجارتی تعلقات میں پاکستان کی اہمیت اور کردار کو مزید اجاگر کیا گیا۔
پاکستان کے عالمی تجارتی مفادات کا تحفظ:
پاکستان کا وفد عالمی تجارتی منظرنامے میں ملکی مفادات کے موثر تحفظ کے لیے مسلسل مذاکرات میں شریک ہے۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر تجارتی مواقع کو مساوی بنانا پاکستان کے اہم مفادات میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں کی ترقی کے لیے بھی عالمی تجارتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے اس وفد کی کوششوں کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کے تجارتی تعلقات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے، اور پاکستان ایک مضبوط تجارتی پارٹنر کے طور پر عالمی تجارت کے منظرنامے میں اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی طرف گامزن ہے۔
اختتامیہ:
پاکستان کی عالمی تجارتی کوششوں میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی قیادت میں ہونے والی اس وزارتی کانفرنس میں شرکت نے عالمی سطح پر ملک کی سفارتی کوششوں کو نمایاں کیا ہے۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان نے عالمی تجارتی اصلاحات کے حوالے سے اپنے موقف کو بھرپور طریقے سے پیش کیا اور اپنے تجارتی مفادات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا۔ پاکستانی وفد کی عالمی سطح پر پذیرائی اور اثرات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی تجارتی فورمز میں فعال اور موثر کردار ادا کر رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔



