
بیان کے مطابق مہمان وزرائے خارجہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ”ہم پیر کو ایک چار فریقی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وفود کی اتوار کی شام تک پاکستان آمد متوقع ہے۔

ایران جنگ طویل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور خلیجی ممالک میں قریبی روابط ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔
انقرہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے نجی براڈکاسٹر ‘اے ہیبر‘ کو بتایا کہ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا طے پایا تھا۔ انہوں نے جمعہ کی رات گئے کہا، ”تاہم، چونکہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کا اپنے ملک میں رہنا ضروری ہے، اس لیے ہم نے اجلاس پاکستان منتقل کر دیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ہم وہاں اس ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں۔‘‘

فیدان نے کہا تھا کہ ان مذاکرات میں چاروں مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
اس سے قبل جمعہ کو جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فہیول نے، اپنے ذرائع کا حوالہ دیے بغیر کہا تھا کہ وہ ”بہت جلد‘‘ پاکستان میں براہِ راست امریکہ – ایران ملاقات کی توقع کر رہے ہیں۔
اگرچہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے اعتراف سے انکار کیا ہے، لیکن ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم‘ کے مطابق، ایک گمنام ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب اسلام آباد کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔



