
نیپال کے سابق وزیراعظم گرفتار
''قانون سے بالاتر کوئی نہیں... یہ بدلہ نہیں بلکہ انصاف کا آغاز ہے۔‘‘
ڈی پی اے، اے پی کے ساتھ
انہوں نے مزید کہا، ” تمام کارروائی قانون کے مطابق اور انسانی حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوئے کی جا رہی ہے۔‘‘

گرفتاری کے فوراً بعد کے پی شرما اولی کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) کے سینکڑوں حامی دارالحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگایا۔ وزیر داخلہ سوڈن گرونگ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی عمل کا آغاز ہے۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا، ”قانون سے بالاتر کوئی نہیں… یہ بدلہ نہیں بلکہ انصاف کا آغاز ہے۔‘‘
گزشتہ ستمبر میں ہمالیائی ملک نیپال اس وقت شدید بے امنی کی لپیٹ میں آ گیا تھا جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف ہزاروں نوجوان مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور وسیع پیمانے پر کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف آواز اٹھائی۔
نوجوانوں مظاہرین کے سبب اسے ‘جنریشن زی‘ احتجاج کا نام دیا گیا اور احتجاج کے آغاز کے تقریباً 72 گھنٹوں کے دوران کم از کم 76 افراد ہلاک ہوئے۔ ملک بھر کی مختلف جیلوں میں آتش زنی اور قیدیوں کے فرار ہونے کی کوششوں کے دوران بھی کئی افراد جان سے گئے۔

اولی، جو اس وقت وزیراعظم تھے، بعد ازاں مستعفی ہو گئے اور پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی۔ انہوں نے مارچ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیا، لیکن ریپر سے سیاست دان بننے والے بالیندر شاہ کی قیادت میں اعتدال پسند ‘راشٹریہ سواتنتر پارٹی‘ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
جمعرات کو شاہ کی پہلی کابینہ کے اجلاس کے دوران ‘جنریشن زی‘ احتجاج کے تشدد پر کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ رپورٹ ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی لیکن میڈیا میں لیک ہو گئی ہے، جس کے مطابق اولی، لیکھک اور ایک سابق پولیس چیف سمیت دیگر کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ احتجاج کے پہلے دن پر توجہ مرکوز کرتی ہے جبکہ دوسرے دن کے واقعات پر خاموش ہے، جب پارلیمنٹ، وزیراعظم آفس اور عدلیہ سمیت اہم ریاستی اداروں کو آگ لگا دی گئی تھی اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔



