
اسرائیلی حملے میں ایک خاتون سمیت تین لبنانی صحافی ہلاک
فوج نے شعیب پر ’’اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی‘‘ کا بھی الزام عائد کیا۔
المنار چینل ایران نواز تنظیم حزب اللہ
المنار کے رپورٹر علی شعیب اور المیادین چینل کی رپورٹر فاطمہ فتونہ اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں لبنان کے وزیرِ اطلاعات نے تصدیق کی کہ فاطمہ فتونہ کے بھائی اور کیمرہ مین محمد فتونہ بھی اسی حملے میں مارے گئے۔
کے زیرِ اثر ہے، جبکہ المیادین کو خطے میں ایران کے اتحادیوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے علی شعیب کو حزب اللہ کی رضوان فورس کے انٹیلیجنس یونٹ کا رکن قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی پوزیشنوں کے بارے میں رپورٹ کر رہا تھا۔
تاہم اسرائیلی بیان میں دیگر ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی شعیب کے حزب اللہ کا رکن ہونے کے دعوے کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔

دریں اثناء جنوبی لبنان میں تین لبنانی صحافیوں کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اعلیٰ حکام اور میڈیا اداروں نے اس واقعے کو صحافتی آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کو ’’اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے شہری‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک کھلی جارحیت ہے جو ان تمام ضابطوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی ہے جن کے تحت جنگ کے دوران صحافیوں کو بین الاقوامی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔‘‘
المیادین چینل نے اپنی رپورٹر فاطمہ فتونہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’بہادر اور غیر جانب دار رپورٹنگ‘‘ کے لیے مشہور تھیں۔

بیروت کے لیے المیادین کے ڈائریکٹر نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ دشمن کہانی کو ختم کرنا چاہتا ہے… لیکن لفظ کو کبھی مارا نہیں جا سکتا۔‘‘
یاد رہے کہ لبنانی فری لانس صحافی حسین حمود، جو المنار کے لیے کام کر رہے تھے ، بدھ کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، جس کی تصدیق کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے کی ہے۔
CPJ کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کم از کم تین مزید صحافی فضائی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی فوج نے ان واقعات پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔



