
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،دفتر خارجہ کےساتھ
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور علاقائی و عالمی امور پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ملاقات کے آغاز پر نائب وزیرِ اعظم نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور پاکستان کی جانب سے مصر کے ساتھ دیرینہ، برادرانہ اور مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور مصر کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مذہبی ہم آہنگی اور اہم علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر یکساں مؤقف کی بنیاد پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا اور حالیہ عرصے میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ خاص طور پر نومبر 2025 میں مصر کے وزیرِ خارجہ کے دورۂ پاکستان کے بعد ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید فروغ دے کر تعلقات کو نئی جہت دی جائے گی۔
گفتگو کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں وزراء نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں مشترکہ وزارتی کمیشن کو فعال بنانے، کاروباری برادری کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقتصادی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا مرکزی ستون بنایا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں تعاون بھی ملاقات کا اہم حصہ رہا۔ نائب وزیرِ اعظم نے بالخصوص ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے مصر کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو سراہا اور اس شعبے میں جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ماہرین کے مطابق مصر کا اس بیماری کے خلاف کامیاب تجربہ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تربیتی تبادلوں، ادارہ جاتی روابط اور دیگر مشترکہ اقدامات کے ذریعے اس تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیا گیا اور اسے مزید وسعت دینے پر زور دیا گیا۔
علاقائی اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، بھی ملاقات کا اہم موضوع رہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کو ناگزیر قرار دیا۔
فلسطین کے مسئلے پر بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں مکمل ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔ نائب وزیرِ اعظم نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کے اہم کردار کو بھی سراہا اور اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔
مزید برآں، دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت دیگر کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاکہ عالمی اور علاقائی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ مصر کے وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی روابط کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں پاکستان اور مصر کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔




