پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

گوادر پورٹ پر خصوصی جہاز کی کامیاب برتھنگ: پاکستان کی بحری معیشت کے لیے اہم سنگ میل

وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ یہ کامیاب آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی کارگو فلو آہستہ آہستہ پاکستان کے جنوب مغربی ساحل کی طرف منتقل ہو رہا ہے

ناصر اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ تیزی سے ایک محفوظ اور تزویراتی بحری مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں عالمی شپنگ لائنیں روایتی خلیجی راستوں کے متبادل تلاش کرتے ہوئے اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال نے گوادر کو ایک نئے تجارتی مرکز کے طور پر سامنے آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب خصوصی کارگو جہاز M/V HMO Leader نے کامیابی کے ساتھ گوادر پورٹ پر 35 ٹکڑوں پر مشتمل جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو کے ساتھ برتھنگ کی۔ اس پیش رفت کو بندرگاہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی میری ٹائم آپریٹرز کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ یہ کامیاب آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی کارگو فلو آہستہ آہستہ پاکستان کے جنوب مغربی ساحل کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے روایتی شپنگ کوریڈورز کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ جیسے متبادل راستوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ گوادر اپنی جغرافیائی اہمیت اور جدید انفراسٹرکچر کی بدولت تیزی سے ایک محفوظ اور قابل اعتماد ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ بندرگاہ نہ صرف ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے بلکہ یہاں دستیاب سہولیات بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔
وزیر کے مطابق دنیا بھر کی شپنگ کمپنیاں اب گوادر کی جانب راغب ہو رہی ہیں اور یہاں کارگو اسٹوریج اور آگے ترسیل کے لیے اس کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے بندرگاہ انتظامیہ نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج کی سہولت فراہم کی ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ تجارتی حجم کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور خطے میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گوادر پورٹ اپنے مربوط فری زون کے ساتھ اس وقت تقریباً 16 ہزار TEUs کنٹینرائزڈ کارگو کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 90 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبہ جنرل کارگو اسٹوریج کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ صلاحیت بندرگاہ کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم لاجسٹک حب بنانے میں مدد دے رہی ہے۔
محمد جنید انور چوہدری نے M/V HMO Leader کی کامیاب ہینڈلنگ کو گوادر کی بڑھتی ہوئی آپریشنل مہارت کا عملی مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالی ترغیبات، بڑھتی ہوئی استعداد اور نسبتاً مستحکم ماحول بندرگاہ کو ایک نمایاں علاقائی تجارتی مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر پورٹ مستقبل میں پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ، بحری تجارت کے استحکام اور علاقائی و بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button