
آئی ایس ایس آئی-پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کی جانب سے تیونس کے یومِ آزادی کی تقریب
ہ تیونس افریقی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے تیونس کی آزادی کی حمایت کی,سینیٹر مشاہد حسین سید
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کے اشتراک سے تیونس کے یومِ آزادی کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کا آغاز پاکستان اور تیونس کے قومی ترانوں سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آمنہ خان، ڈائریکٹر سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے انجام دیے۔ مقررین میں سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی شامل تھے، جبکہ مہمانِ خصوصی سینیٹر مشاہد حسین سید تھے۔
اس موقع پر مس ڈورسف معروفي، ناظم الامور تیونس برائے پاکستان، جاوید احمد عمرانی، پاکستان کے سفیر برائے تیونس، مسٹر عماد رشید، اعزازی قونصل جنرل برائے تیونس (خیبر پختونخوا) اور مسٹر محمد حمید، اعزازی قونصل جنرل (پنجاب) نے بھی خطاب کیا۔
سفیر خالد محمود نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ تیونس کی آزادی کی 70ویں سالگرہ تیونسی عوام کی ثابت قدمی اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں جو تیونس کی خودمختاری کی حمایت سے شروع ہوئے اور 1957 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد معاشی و تجارتی تعاون میں بدل گئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ دوطرفہ تجارت محدود ہے، تاہم ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں اسے بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جسے جوائنٹ منسٹریل کمیشن اور دوطرفہ سیاسی مشاورت جیسے ادارہ جاتی میکنزم اور افریقی براعظمی آزاد تجارتی معاہدے کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ تیونس کا 70واں یومِ آزادی اس بات کا جشن ہے کہ تیونسی عوام نے اپنے خودمختار مستقبل کی تشکیل میں کس عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس کا سفر صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی اور تبدیلی کا بھی عکاس ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال سے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے پاکستان کی “انگیج افریقہ” پالیسی کے تحت افریقی ممالک کے قومی دن باقاعدگی سے منانے کا آغاز کیا ہے، جو آئی ایس ایس آئی کے مرکزی افریقہ ڈے ایونٹ سے الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات افریقہ کی پاکستان کے لیے اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں اور آج کی تقریب بھی اسی مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ تیونس افریقی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے تیونس کی آزادی کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں پی ایل او کو تیونس میں پناہ دی گئی اور پاکستان کی طرح تیونس بھی فلسطین کا مضبوط حامی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں اور تجارت و تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے کیونکہ دونوں ممالک گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے تجارت، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔
تیونس کی ناظم الامور مس ڈورسف معروفي نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے درمیان تاریخی تعلقات مضبوط ہیں، خصوصاً اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت قابل ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے ترجیحی تجارتی معاہدے کے ذریعے تجارت بڑھانے، ثقافتی اور سیاحتی روابط کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے تیونس کے نامیاتی زیتون کے تیل کی مہارت کو تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر اجاگر کیا۔
سفیر جاوید عمرانی نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں اور تجارت میں بھی مثبت اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریاں اور چیمبرز آف کامرس اقتصادی روابط کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جس کی مثال گزشتہ سال تیونس کا دورہ کرنے والا 17 رکنی وفد ہے جس میں کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
عماد رشید نے کہا کہ ہم تجارت، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران کاروباری روابط کو فروغ دینے اور تیونس کو یورپ اور افریقہ کے دروازے کے طور پر متعارف کرانے پر توجہ دی گئی ہے۔
محمد حمید نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے درمیان بہترین تعلقات موجود ہیں اور انہیں ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاہدے کی منظوری سے تعاون کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ زیتون کے تیل کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے



