
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی سیکورٹی ذرائع کے ساتھ
سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک "فالس فلیگ آپریشن” کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں پاکستانی قیدیوں کو استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پیر کے روز سامنے آنے والی ان اطلاعات کے مطابق، ایسے پاکستانی شہری جو مبینہ طور پر نادانستہ طور پر سرحد عبور کرنے کے بعد گرفتار ہوئے تھے، انہیں اس منصوبے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
قیدیوں کی منتقلی پر تشویش
ذرائع کے مطابق، درجنوں پاکستانی شہری، جن میں کشمیری بھی شامل ہیں، اس وقت بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان قیدیوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ انہیں کسی مبینہ کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو اس کا مقصد عالمی سطح پر بیانیہ تبدیل کرنا اور سفارتی دباؤ کو کم کرنا ہو سکتا ہے۔
ماضی کے واقعات کا حوالہ
ذرائع نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ایک حملے کے بعد بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
اس واقعے کے بعد نئی دہلی نے مبینہ طور پر آزاد کشمیر اور پنجاب کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی کارروائی کی۔ چار روز تک جاری رہنے والی اس کشیدگی کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی عمل میں آئی، جس میں امریکہ نے ثالثی کردار ادا کیا۔
پلوامہ اور بالاکوٹ بحران
اسی تناظر میں 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ہونے والے حملے کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس میں 40 سے زائد بھارتی نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد نے اس کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کی، جسے پاکستان نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
جواب میں دونوں ممالک کے جنگی طیارے آمنے سامنے آئے، اور پاکستان نے ایک بھارتی طیارہ مار گرایا۔ اس دوران بھارتی پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کیا گیا، جنہیں بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر دیا گیا۔
موجودہ خدشات اور ممکنہ اثرات
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ اطلاعات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ماہرین کے مطابق اس قسم کی اطلاعات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
سفارتی اور سکیورٹی پہلو
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پہلے ہی حساس نوعیت کے ہیں، اور کسی بھی قسم کا "فالس فلیگ آپریشن” یا اس سے متعلق الزام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے ماضی میں بھی ایسے الزامات پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری کو خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔
نتیجہ
موجودہ صورتحال میں یہ دعوے ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں، تاہم حقائق کی تصدیق اور زمینی صورتحال کی وضاحت ابھی باقی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں محتاط سفارتی حکمت عملی اور شفاف تحقیقات ہی کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔



