
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسپین نے ایران سے متعلق تنازع کے تناظر میں ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے امریکہ کے فوجی طیاروں کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال سے روک دیا ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف یورپ میں فوجی نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے بلکہ نیٹو اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
حکومتی تصدیق اور مؤقف
اس فیصلے کی ابتدائی رپورٹ ایل پیس نے شائع کی، جس کے بعد ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے اس کی باضابطہ تصدیق کی۔
انہوں نے ایران میں جاری جنگ کو "انتہائی غیر قانونی اور غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسپین اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق، یہ مؤقف پہلے ہی امریکی حکومت کو واضح کر دیا گیا تھا۔
فوجی نقل و حرکت پر اثرات
اسپین کے اس اقدام کے بعد امریکی فوجی طیاروں کو یورپ سے مشرق وسطیٰ تک رسائی کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ ہسپانوی فضائی حدود جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ مغرب میں بحر اوقیانوس اور مشرق میں بحیرہ روم کے اہم حصوں پر محیط ہے، جبکہ کینری جزائر کے اطراف کی فضائی حدود بھی اس کے کنٹرول میں ہے۔
اگرچہ ہسپانوی حکومت نے ہنگامی حالات میں محدود اجازت کا عندیہ دیا ہے، تاہم معمول کی پروازوں، ایندھن بھرنے اور دیگر آپریشنل سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔
امریکہ اور اسپین کے تعلقات میں کشیدگی
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت پہلے ہی اسپین پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ ٹرمپ نے ماضی میں اسپین کے اس مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے تجارتی پابندیوں کی دھمکی بھی دی تھی اور یہاں تک کہا تھا کہ امریکہ اسپین کے ساتھ تجارت ختم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جنگ کی مخالفت پر اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے بارہا امن کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپین نے روٹا نیول ایئر اسٹیشن اور مورون ایئربیس جیسے اہم اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
نیٹو کے اندر بڑھتی دراڑیں
یہ اقدام نیٹو کے اندر پالیسی اختلافات کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف برطانیہ جیسے ممالک امریکی افواج کو اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دے رہے ہیں، وہیں اسپین نے اس سے انکار کرتے ہوئے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔
نیٹو اصولی طور پر اتفاقِ رائے پر کام کرتا ہے، تاہم آرٹیکل 5 (اجتماعی دفاع) کے علاوہ دیگر کارروائیوں میں رکن ممالک کی شرکت رضاکارانہ ہوتی ہے۔ اسپین کے فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ ایران سے متعلق امریکی کارروائیوں کو نیٹو کی مشترکہ جنگ نہیں سمجھتا۔
سفارتی اور تزویراتی اثرات
ماہرین کے مطابق، اگرچہ اس فیصلے کے فوری فوجی اثرات کو کسی حد تک متبادل راستوں کے ذریعے سنبھالا جا سکتا ہے، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات زیادہ اہم ہیں۔
نیٹو کے اندر اس قسم کی تقسیم مخالف قوتوں کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ اتحاد میں مکمل ہم آہنگی موجود نہیں، جو مستقبل کی مشترکہ کارروائیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
اسپین کا یہ فیصلہ نہ صرف اس کی خودمختار خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات نے مغربی اتحادوں کے اندر بھی اختلافات کو جنم دیا ہے۔
اگرچہ نیٹو بدستور قائم ہے، تاہم اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ اتحاد کے اندر پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں اس کی یکجہتی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔






