انٹرٹینمینٹتازہ ترین

روسی ادیب میکسیم گورکی کی 158ویں سالگرہ اور بالشوئی تھیٹر کے 250 سال مکمل ہونے پر شاندار تقریب کا انعقاد

روس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور انہیں ایک نئے فکری اور عملی دور سے روشناس کروایا۔

شہباز انور خان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم و ثقافت کے زیر اہتمام بین الاقوامی شہرت یافتہ روسی ادیب میکسیم گورکی کی 158ویں سالگرہ اور بالشوئی تھیٹر کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک خصوصی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب علمی، ادبی اور ثقافتی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی، جس میں ملک بھر سے نامور دانشوروں، اساتذہ، ادیبوں اور سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا مقصد روسی ادب اور ثقافت کے عالمی اثرات کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کو ان سے روشناس کروانا تھا۔

مہمانِ خصوصی کا خطاب
تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ، پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں روس میں قیام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کو نہایت مدلل اور دلچسپ انداز میں بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور انہیں ایک نئے فکری اور عملی دور سے روشناس کروایا۔


انہوں نے روسی معاشرے کو ایک فلاحی، انسان دوست اور مساوات پر مبنی نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں برابری، رواداری اور خدمت کے اصول نمایاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یہی اقدار پاکستانی معاشرے میں اپنائی جائیں تو ایک مثالی سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

تعارفی کلمات اور میکسیم گورکی کی ادبی عظمت
تقریب کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے میکسیم گورکی کی ادبی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف روس بلکہ عالمی ادب کا ایک درخشاں ستارہ تھے۔ ان کی تحریروں نے روسی انقلاب کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف شعور اجاگر کیا۔


انہوں نے خاص طور پر گورکی کے شہرہ آفاق ناول "ماں” کا ذکر کیا، جس نے دنیا بھر میں لاکھوں قارئین کو متاثر کیا اور انہیں جدوجہد اور شعور کی نئی راہیں دکھائیں۔

فرخ سہیل گوئندی کا اظہارِ خیال
معروف ادیب، پبلشر اور دانشور فرخ سہیل گوئندی نے اپنے خطاب میں میکسیم گورکی کی ہمہ جہت شخصیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورکی نہ صرف ایک عظیم ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار تھے بلکہ ایک بااثر انقلابی اور کامیاب فنڈ ریزر بھی تھے۔


انہوں نے مزید کہا کہ گورکی کو پانچ مرتبہ نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا، تاہم ان کے کمیونسٹ نظریات کے باعث انہیں اس اعزاز سے محروم رکھا گیا۔ ان کے مطابق گورکی کی تحریروں نے سماجی تضادات کو بے نقاب کیا اور عوام میں جدوجہد اور بیداری کا جذبہ پیدا کیا۔

ڈاکٹر مصدق حسین کا تحقیقی مقالہ
ڈاکٹر مصدق حسین نے "میکسم گورکی: روسی ادب کا روشن ستارہ” کے عنوان سے اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورکی ایک عظیم مفکر، افسانہ نگار، ناول نویس اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے عالمی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گورکی کا ناول "ماں” دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اسے عالمی ادب کے اہم ترین شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بالشوئی تھیٹر کی تاریخ اور ثقافتی اہمیت
تقریب کے ایک اور نمایاں مقرر ڈاکٹر سلمان شاہد تھے، جنہوں نے بالشوئی تھیٹر کی تاریخ اور اس کے ثقافتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تھیٹر زار روس کے دور میں قائم ہوا اور آج بھی روس کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔


انہوں نے وضاحت کی کہ بالشوئی تھیٹر میں روایتی ڈراموں کے برعکس بیلے اور اوپیرا پیش کیے جاتے ہیں، جن میں فنکار موسیقی اور رقص کے ذریعے کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں لوگ بڑی تعداد میں اس کے شوز دیکھنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے رہتے تھے۔

اختتامی کلمات اور تقریب کا پیغام
تقریب کے میزبان اور روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم و ثقافت کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ میکسیم گورکی ان عظیم ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف ادب کو نئی جہت دی بلکہ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے لیے امید، حوصلہ اور شعور کی روشنی فراہم کی۔


انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات کا مقصد نوجوان نسل کو عالمی ادب، ثقافت اور فکری روایات سے جوڑنا ہے تاکہ وہ تخلیقی اور فکری میدان میں آگے بڑھ سکیں۔

شرکاء کی بھرپور شرکت
تقریب میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقررین کے خیالات کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسی تقاریب معاشرے میں علم، ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button