
اسرائیلی پارلیمنٹ کا متنازع قانون منظور، فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی راہ ہموار
سزائے موت کو بنیادی سزا کے طور پر رکھا گیا ہے، تاہم "خصوصی حالات" میں اسے عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یروشلم:
اسرائیل کی پارلیمنٹ Knesset نے ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت مہلک حملوں میں ملوث قرار دیے گئے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو ممکنہ طور پر لازمی سزا کے طور پر نافذ کیا جا سکے گا۔ اس قانون نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور اسے امتیازی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر عدالت میں چیلنج بھی کر دیا گیا ہے۔
قانون کی منظوری اور سیاسی حمایت
یہ بل پیر کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جہاں وزیر اعظم Benjamin Netanyahu سمیت 62 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 48 نے مخالفت کی۔ اس قانون کی بھرپور حمایت انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر Itamar Ben-Gvir نے کی۔ ایک رکن غیر حاضر رہا جبکہ دیگر اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔
قانون کی اہم شقیں
قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی عدالتوں کی جانب سے "دہشت گردی کی کارروائیوں” میں ملوث قرار دیے گئے فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
- سزائے موت کو بنیادی سزا کے طور پر رکھا گیا ہے، تاہم "خصوصی حالات” میں اسے عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
- پھانسی کا طریقہ کار بطور سزا مقرر کیا گیا ہے، جسے سزا سنانے کے 90 دن کے اندر نافذ کیا جائے گا، جبکہ مخصوص حالات میں اسے 180 دن تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی قوانین کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں، جبکہ اسرائیلی شہریوں (بشمول مشرقی یروشلم کے فلسطینی) پر مقدمات فوجداری عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔
دوہرا نظام اور امتیازی سلوک کے الزامات
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ Association for Civil Rights in Israel نے کہا کہ یہ قانون "دو متوازی قانونی نظام” قائم کرتا ہے جو بنیادی طور پر فلسطینیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق فوجی عدالتوں میں سزائے موت کا اطلاق جبکہ شہری عدالتوں میں مخصوص شرائط اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قانون ساختی طور پر امتیازی ہے۔
تنظیم نے اس قانون کے خلاف Supreme Court of Israel میں درخواست بھی دائر کر دی ہے، جس میں اسے آئینی اور دائرہ اختیار کی بنیاد پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں شدید بحث
قانون سازی کے دوران اپوزیشن اراکین نے بھی سخت ردعمل دیا۔ سابق موساد ڈپٹی ڈائریکٹر اور رکن پارلیمنٹ Ram Ben-Barak نے کہا کہ یہ قانون اسرائیلی معاشرے میں تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایک ہی علاقے میں مختلف آبادیوں کے لیے الگ قوانین کا نفاذ ریاست کی بنیادی اقدار کے خلاف نہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
Amnesty International نے اس قانون کو فلسطینیوں کے خلاف امتیازی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی قانون سازوں سے اسے مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
مزید برآں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی اس قانون پر "گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے اسرائیل کے عزم کو کمزور کر سکتا ہے۔
نتیجہ
اس متنازع قانون کی منظوری کے بعد اسرائیل کے قانونی اور سیاسی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی برادری اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں عدالتوں میں اس قانون کو درپیش چیلنجز اور عالمی دباؤ اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔



