کھیلتازہ ترین

پاکستان کی ایڈوینچر ایتھلیٹ ثمر خان نے اہم سنگِ میل عبور کر کے تاریخ رقم کردی

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے جو ان کی صلاحیتوں پر شک کرتے تھے

By www.vogurdunews.de
ثمر خان نے ایک اور تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔ انہوں نے انتہائی سخت موسمی حالات میں 300 کلومیٹر طویل Fjällräven Polar Challenge کامیابی سے مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔
یہ منفرد اور کٹھن مہم سویڈن سے شروع ہو کر ناروے میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں برف سے ڈھکے دشوار گزار راستوں، منفی درجہ حرارت اور تیز برفانی ہواؤں نے شرکاء کے حوصلے کا سخت امتحان لیا۔ اس مہم کو ڈاگ سلیج کے ذریعے مکمل کیا گیا، جس میں جسمانی قوت کے ساتھ ذہنی مضبوطی بھی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
ثمر خان اس کامیابی کے ساتھ آرکٹک مہم مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ایتھلیٹ بن گئی ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ ان کی اس کامیابی پر ملک بھر سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف حلقوں میں ان کی جرات و حوصلے کو سراہا جا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ثمر خان نے اس کامیابی کو ان تمام لوگوں کے نام کیا جنہوں نے ان پر یقین رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے جو ان کی صلاحیتوں پر شک کرتے تھے۔ ان کے مطابق اگر انسان کا عزم مضبوط ہو تو سخت ترین حالات بھی راستہ نہیں روک سکتے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مہم کے دوران انہیں شدید سردی، تھکن اور طویل فاصلے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کامیابی کو اپنے ملک کے نام کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ پاکستانی خواتین ہر میدان میں آگے بڑھیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیر کھیل ملک فیصل ایوب کھوکھر نے بھی ثمر خان کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کے لیے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ان کے مطابق ثمر خان نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب خواتین کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مزید ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔ ان کے مطابق ثمر خان نہ صرف ایک کامیاب ایتھلیٹ ہیں بلکہ نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مضبوط رول ماڈل بھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی کامیابیاں نہ صرف کھیلوں کے میدان میں پاکستان کی پہچان کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل، خصوصاً خواتین، کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے حوصلہ بھی دیتی ہیں۔ ثمر خان کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، عزم اور حوصلے کے ساتھ دنیا کی مشکل ترین مہمات بھی سر کی جا سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button