
روئٹرز کے ساتھ
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا، ”تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے‘‘ اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی، جسے پاکستان کے ذریعے حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ ان مذاکرات میں پاکستان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔
اس سے قبل امریکی ویب سائٹ اگزیوس نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک لے جا سکتی ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہو گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس مجوزہ معاہدے کو عارضی طور پر ‘اسلام آباد معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔
امریکہ اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
ایرانی حکام اس سے قبل روئٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت ہو کہ امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو گی۔
دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ سفارتی اور عسکری سطح پر کوششوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ایک ذریعے نے کہا، ”ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، ‘‘اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکہ کی حمایت یافتہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
چینی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک دوسرے پر حملے جاری
یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تنازع کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اس تنازع نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے، اور تاجر اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی پیش رفت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ‘آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ‘وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔



