پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کراچی میٹرک امتحانات میں بدانتظامی، تاریخوں میں توسیع طلبہ کے مفاد میں قرار

انہوں نے انکشاف کیا کہ تاحال مکمل امتحانی مراکز کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی تمام طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز جاری کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا اور سندھ کے صدر اختر آرائیں کے ساتھ

کراچی: آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن نے کراچی میں میٹرک امتحانات کے حوالے سے شدید بدانتظامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امتحانات کی ملتوی اور تاریخوں میں توسیع کو طلبہ کے بہترین مفاد میں قرار دیا ہے۔

فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا اور سندھ کے صدر اختر آرائیں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث امتحانی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

امتحانی شیڈول اور انتظامات میں خامیاں

فیڈریشن کے رہنماؤں کے مطابق انہوں نے پہلے ہی بورڈ حکام کو تجویز دی تھی کہ کمپیوٹر کے 7 اور 8 اپریل کے پرچوں کو آگے بڑھایا جائے اور آن لائن پورٹل کی ہوسٹنگ بہتر کی جائے تاکہ سسٹم ڈاؤن نہ ہو۔ تاہم ان تجاویز کو بروقت نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ تاحال مکمل امتحانی مراکز کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی تمام طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز جاری کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

طلبہ کے حقوق کی خلاف ورزی

کاشف مرزا اور اختر آرائیں نے کہا کہ نامکمل انتظامات اور ایڈمٹ کارڈز کے اجرا میں تاخیر طلبہ کے بنیادی تعلیمی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جو آرٹیکل 25-A کے تحت ہر بچے کو تعلیم کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال (CRC) کے آرٹیکل 28 اور آرٹیکل 3 کی بھی خلاف ورزی ہے، جو تعلیم تک بلا رکاوٹ رسائی اور بچوں کے بہترین مفاد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔

آن لائن سسٹم اور کرپشن کے الزامات

فیڈریشن نے کراچی بورڈ کے آن لائن پورٹل کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امتحانی فارمز کے اندراج کا نظام نااہلی اور ممکنہ کرپشن کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخری دن تک فارم جمع کرنے کی اجازت دینا اور ایڈمٹ کارڈز وقت پر جاری نہ کرنا انتظامی بدنظمی کی واضح مثال ہے۔

امتحانی مراکز اور سہولیات کی کمی

بیان میں کہا گیا کہ کئی امتحانی مراکز کو نہ تو مکمل طور پر فعال کیا گیا ہے اور نہ ہی وہاں ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ طلبہ اور اسکولوں کو امتحانی مراکز کی بروقت معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس سے شدید بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

طلبہ کی کارکردگی اور ذہنی صحت پر اثرات

فیڈریشن کے مطابق اس بدانتظامی کے باعث طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ

کاشف مرزا اور اختر آرائیں نے مطالبہ کیا کہ کراچی بورڈ کی انتظامیہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت سندھ اور متعلقہ ادارے فوری مداخلت کریں تاکہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو اور ان کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

غیر یقینی صورتحال برقرار

فیڈریشن کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو میٹرک امتحانات کی شفافیت اور نتائج کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، جس کے دور رس اثرات طلبہ کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کے مفاد کو ہر صورت ترجیح دی جائے اور تمام انتظامی خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button