
By www.vogurdunews.de
اسلام آباد میں پاکستان اور یوریشین اکنامک کمیشن کے درمیان ایک اہم اعلیٰ سطحی ویڈیو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو دونوں فریقین نے دوستانہ، مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
اعلیٰ قیادت کے درمیان بامقصد گفتگو
یہ اجلاس وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور یوریشین وزیر آندرے سلپنیف کے درمیان ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مستقبل میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
آندرے سلپنیف نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور ابھرتا ہوا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوریشین ممالک جنوبی ایشیا کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
تجارت کے فروغ اور نئے مواقع
اجلاس کے دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے لاجسٹکس، توانائی، ڈیجیٹل تجارت اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق تجارت کو فروغ دینے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس سلسلے میں یوریشین ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
ممکنہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت
اجلاس میں پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کی گئی۔ اس اقدام کو خطے میں اقتصادی انضمام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایک جامع حکمت عملی کے تحت تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی اور ترجیحی تجارتی نظام
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد ترجیحی تجارتی نظام (Preferential Trade Agreement) متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا، جو مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے گا۔
یہ اقدام دونوں خطوں کے درمیان تجارت کو منظم اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مستقبل کے لیے مضبوط عزم
اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور یوریشین یونین کے درمیان اقتصادی تعاون میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں دونوں خطے قریبی اور پائیدار شراکت داری کو فروغ دیں گے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں تجارتی روابط کو بھی نئی جہت دے سکتی ہے۔



