
پاک–ترک دفاعی تعلقات میں پیش رفت: ترک ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کا نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ
موجودہ حالات میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا نہایت اہم ہے، کیونکہ عالمی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے منسلک ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آئی جب ترک مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل لیونٹ ایرگن نے نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔
پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی ملاقات
نیول ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ملاقات ایک خوشگوار اور پیشہ ورانہ ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور مشترکہ مفادات کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی پر گفتگو
ملاقات کے دوران خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بالخصوص اسرائیل امریکہ ایران تنازعہ کے تناظر میں پیدا ہونے والے علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی کے چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا نہایت اہم ہے، کیونکہ عالمی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے منسلک ہے۔
دفاعی تعاون اور مشترکہ مشقوں پر زور
پاک اور ترک عسکری قیادت نے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں تربیتی پروگرامز، پیشہ ورانہ تبادلوں اور مشترکہ فوجی مشقوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہم آہنگی اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بناتے ہیں۔
پاک بحریہ کا کردار
ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر میری ٹائم سیکیورٹی کے قیام میں پاک بحریہ کے فعال کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ سمندری راستوں کے تحفظ، بحری قزاقی کے خاتمے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
ترک قیادت کی جانب سے اعتراف
جنرل لیونٹ ایرگن نے مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی کے فروغ میں پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں بحری استحکام کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو خوش آئند قرار دیا۔
اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی
یہ دورہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کا مظہر ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف دفاعی میدان میں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں بھی قریبی تعاون رکھتے ہیں۔
محفوظ بحری ماحول کے لیے مشترکہ عزم
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن بحری ماحول کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مشترکہ اقدامات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔


