پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

شمالی کوریا کے سفیر کی پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ آمد: پاک–کوریا تعلقات کے فروغ پر زور

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات میں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور رابطے نہایت اہمیت اختیار کر چکے ہیں

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد: عوامی جمہوریہ شمالی کوریا کے پاکستان میں تعینات غیر معمولی و مختار سفیر چوہے چانگ مان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو پاکستان اور شمالی کوریا کے درمیان سفارتی اور سیاسی روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ قیادت سے ملاقات

دورے کے دوران سفیر چوہے چانگ مان نے سید نیر حسین بخاری، ہمایوں خان اور سید سبط الحیدر بخاری سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی روابط کو بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ملاقات میں علاقائی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات میں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور رابطے نہایت اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی قیادت کا مؤقف

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور شمالی کوریا کے درمیان دوستانہ تعلقات موجود ہیں جو مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

سفیر کا اظہارِ تشکر

اس موقع پر سفیر چوہے چانگ مان نے پرتپاک استقبال پر پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

سفارتی اہمیت

ماہرین کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف سیاسی جماعتوں اور سفارتی نمائندوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی ایک مثال ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں ممکنہ تعاون کی راہیں بھی ہموار کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button