
ایجنسیاں
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پس پردہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں، جبکہ خطے میں ممکنہ تصادم کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس نازک صورتحال میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم حالات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
مذاکرات کی کوششیں اور بڑھتی کشیدگی
دو پاکستانی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اسی دوران ایران پر امریکی حملوں میں شدت آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سخت ڈیڈ لائن بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی لمحے حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب پر ممکنہ خطرات
ذرائع میں شامل ایک سینیئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب پر ممکنہ ایرانی حملوں کے خدشات نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے
اسی تناظر میں منگل کو شہزادہ محمد بن سلمان اور شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس رابطے کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی مشاورت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیصلہ کن لمحات
دوسرے ذریعے کے مطابق ایران کی موجودہ صورتحال “انتہائی نازک” ہے اور آئندہ چند گھنٹے مذاکرات کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس دوران کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
پاکستان کا ثالثی کردار
حالیہ ہفتوں میں پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ پاکستانی حکام دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے کے آثار سامنے نہیں آئے۔
ایک سیکیورٹی ذریعے کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں کچھ لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ پاکستان ایران کو بغیر پیشگی شرائط کے مذاکرات میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی مؤقف اور جنگ بندی کی تجویز
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم ایک سینیئر ایرانی ذریعے کے مطابق تہران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق مستقل امن کے لیے مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب امریکہ اور اسرائیل حملے بند کریں، مستقبل میں عدم جارحیت کی ضمانت دیں اور نقصانات کا ازالہ کریں۔ یہ شرائط مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
خطے اور عالمی سطح پر اثرات
ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سیکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، اس ممکنہ تنازع کے براہ راست اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
نتیجہ: سفارت کاری کی اہم آزمائش
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں ایک نازک موڑ پر کھڑی ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے سخت مؤقف اور زمینی حقائق اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
اگرچہ ابھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن آنے والے چند گھنٹے اور دن اس بات کا تعین کریں گے کہ خطہ کشیدگی سے نکل کر امن کی جانب بڑھتا ہے یا ایک بڑے تصادم کی طرف۔



