
بی جے پی حکومت کے سیاسی مقاصد کیلئے پاکستان کے خلاف گمراہ کن بیانات اور الزامات میں شدت
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو بھڑکانے کیلئے کانگریس کو پاکستان کے ایجنڈے پر کام کرنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔
آسام: بھارت میں بی جے پی حکومت ایک بار پھر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان کے خلاف گمراہ کن بیانات اور مضحکہ خیز الزامات کا سہارا لینے لگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما جو انتخابی شکست کے خدشات سے دوچار ہیں نے داخلی سیاست میں بھی پاکستان کو گھسیٹنا شروع کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے انتخابات کے دوران پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا، مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ہوا دینا اور فالس فلیگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک پرانا طریقہ کار ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو بھڑکانے کیلئے کانگریس کو پاکستان کے ایجنڈے پر کام کرنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق ہمنت بسوا سرما نے حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ کے پاسپورٹ تنازع میں بھی پاکستان کا کردار ہے، جسے ناقدین نے بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان آسام کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے کانگریس کی مدد کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں انتخابات سے قبل پاکستان کے خلاف بیانات، فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات اور مسلمانوں کے خلاف زہریلی مہمات بی جے پی کی مستقل حکمت عملی بن چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت میں کمی کا سامنا کرنے والی بی جے پی مختلف بھارتی ریاستوں میں انتخابات سے قبل پاکستان مخالف جذبات کو ابھار کر اپنے سیاسی عزائم حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تاہم یہ کوششیں اکثر ناکامی سے دوچار رہتی ہیں۔



