
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے امریکہ سے ایران کے لیے دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کو دی گئی مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کریں تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے اہم پیغام
وزیراعظم نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (Twitter) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور امید ہے کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے وقت دینا ناگزیر ہے، اسی لیے امریکہ سے مہلت میں توسیع کی مخلصانہ درخواست کی گئی ہے۔
جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی اپیل
وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف امریکہ بلکہ تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ کم از کم دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی پر آمادہ ہوں۔ ان کے مطابق یہ وقفہ سفارتی عمل کو مضبوط بنانے اور کسی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں سنجیدہ مذاکرات ممکن ہوں اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست
وزیراعظم نے ایران سے بھی اپیل کی کہ وہ جذبۂ خیرسگالی کے تحت اسی دو ہفتوں کی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پاکستان کا سفارتی کردار
پاکستان نے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ایک متوازن اور فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ تنازعات کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
خطے کی صورتحال اور عالمی خدشات
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔
امن کی کوششوں کے لیے اہم موقع
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دی گئی یہ تجویز ایک اہم سفارتی موقع فراہم کر سکتی ہے، جس کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔




