
مصنفہ: نینا ویرک ہوئزر
فل ویرنگ فوجی خدمت سے انکار کرنے پر غور کر رہے ہیں، وہ وفاقی جرمن مسلح افواج میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔
طالب علم فل ویرنگ نے کہا، ”وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ (ملک کے) دفاع کے لیے ہے، لیکن مجھے کوئی ایسا خطرہ نظر نہیں آتا، اس لیے فوج میں لازمی خدمت مکمل کرنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘
جرمنی میں فوجی خدمت اب بھی رضاکارانہ ہے، مگر یہ صورت حال جلد بدل سکتی ہے۔ فوج کو آئندہ چند برسوں میں کم از کم 60,000 اضافی فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔
فوجی ماہرین کے مطابق یہ امکان کم ہے کہ بڑی تعداد میں جرمن شہری رضاکارانہ طور پر فوج میں شامل ہوں گے۔ فل ویرنگ بھی یہی سمجھتے ہیں، ”صرف وقت کی بات ہے، لازمی فوجی خدمت دوبارہ نافذ کر دی جائے گی۔‘‘
اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر ویرنگ نے ملک گیر مہم، ‘لازمی فوجی سروس کے خلاف اسکول ہڑتال‘ کے انعقاد میں مدد کی۔ جرمنی کے مغربی شہر میونسٹر کے ایک ہائی اسکول کے طالب علم ویرنگ اس مہم کے ترجمانوں میں شامل ہیں۔
وہ اس سال 18 برس کے ہو جائیں گے، اس لیے فوجی بھرتی کا مسئلہ ان کے اور ان کے دوستوں کے لیے خاصا اہم ہے۔ اس کی ایک وجہ جرمنی کے نئے فوجی قوانین بھی ہیں۔ 2026 کے آغاز سے جرمن فوج تمام نوجوان مردوں کو ان کی 18ویں سالگرہ کے قریب ایک سوالنامہ بھیج رہی ہے، جس کا جواب دینا ان کے لیے لازمی ہے۔
جرمنی میں نوجوان مردوں سے سوالنامے میں ایک سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے: ”کیا آپ فوجی بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟‘‘ اس کا جواب صفر سے 10 تک کے پیمانے پر دیا جا سکتا ہے، جس میں صفر کا مطلب ہے کہ انہیں بالکل دلچسپی نہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی فٹنس اور تعلیمی قابلیت کے بارے میں بھی سوالات شامل ہوتے ہیں۔
لیکن سوالنامہ بھرنے کے بعد معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔ یہاں تک کہ وہ افراد بھی جنہوں نے فوج میں شامل ہونے میں ”صفر دلچسپی‘‘ ظاہر کی ہو، وہ بھی طبی معائنے سے نہیں بچ سکتے۔ یعنی فوج کے ڈاکٹر کے ذریعے طبی معائنہ لازمی ہے۔ اس سال کے آغاز سے 2008 کے بعد پیدا ہونے والے تمام نوجوان مردوں کے لیے یہ معائنہ لازمی کر دیا گیا ہے۔ خواتین فوج میں رضاکارانہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں، لیکن قانونی طور پر صرف مردوں کو طبی معائنے یا فوجی سروس کے لیے پابند کیا جا سکتا ہے۔
جرمن فوج کی جانب سے بھرتی مہم میں تیزی، لازمی فوجی بھرتی کے قانون کی ممکنہ واپسی اور روس کی طرف سے نیٹو کے علاقوں پر ممکنہ حملے سے متعلق بحث، ان سب کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
بہت سے نوجوان مرد اب ضمیر کی بنیاد پر فوجی خدمت سے انکار کی درخواست دینے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر کسی شخص کو ضمیر کی بنیاد پر اعتراض کرنے والا تسلیم کر لیا جائے تو اسے ملک کے دفاع کے لیے بھی فوجی خدمت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

جرمن آئین میں فوجی خدمت سے انکار کا حق
وفاقی جرمنی جمہوریہ کے آئین میں واضح طور پر درج ہے، ”کسی بھی شخص کو اس کے ضمیر کے خلاف مسلح فوجی خدمتکرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
فعال فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں کو بھی فوجی خدمت سے انکار کا حق حاصل ہے۔ جرمنی میں کئی دہائیوں تک لازمی قومی خدمت موجود رہی، جس میں نوجوان مردوں کو فوج کے بجائے سول سروس کا متبادل اختیار بھی دیا جاتا تھا۔ تاہم 2011 میں اس نظام کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد فوج کا حجم بھی کم کر دیا گیا اور فوجی سروس سے انکار کرنے والوں کی تعداد بھی کم رہی۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ اس کے بعد سے فوجی خدمت سے انکار کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2025 میں 3,879 درخواستوں کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ وفاقی دفتر برائے خاندانی اور سول سوسائٹی امور کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاع کے مطابق اس سال بھی یہ رجحان جاری رہا۔ فروری کے اختتام تک تقریباً 2,000 درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔
ایسی درخواست دینا آسان نہیں ہوتا اور اس کے لیے تیاری درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ تنظیمیں جو لوگوں کو فوجی خدمت سے انکار کے عمل میں مشورہ دیتی ہیں، ان سے مدد حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ‘جرمن پیس سوسائٹی۔ یونائیٹڈ وار ریزسٹرز‘ نے اب ملک بھر میں 200 سے زیادہ رضاکار مشیروں پر مشتمل ایک نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔

فوجی خدمت سے انکار اور ذاتی اخلاقی کشمکش
حالیہ ہفتوں میں لوتھر ایبرہارٹ نے برلن میں ‘جرمن پیس سوسائٹی۔ یونائیٹڈ وار ریزسٹرز‘ کے لیے متعدد مشاورتی میٹنگیں کی ہیں۔ ان میٹنگوں میں زیادہ تر اس درخواست کے بنیادی پہلو پر بات ہوتی ہے، یعنی وہ ذاتی وجہ جس کی بنا پر کوئی شخص ضمیر کی بنیاد پر فوجی خدمت نہیں کرنا چاہتا۔
ایبرہارٹ نےبتایا، ”اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی کشمکش اور ذاتی حالات کیا ہیں جن کی وجہ سے کوئی شخص جنگ سے انکار کرتا ہے؟‘‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ مشورہ لینے کے لیے آنے والے افراد سے یہی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی گفتگو اکثر ایک گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لے سکتی ہے۔ ایبرہارٹ خود بھی فوجی خدمت سے انکار کرنے والے تسلیم شدہ فرد ہیں اور تقریباً 50 سال سے اس معاملے میں مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق روایتی یا گھسے پٹے دلائل درخواست گزار کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔ درخواست میں شامل ذاتی بیان ایسا ہونا چاہیے جو ایک ماہر جائزہ لینے والے کو قائل کر سکے۔
ان کے تجربے کے مطابق، ”اگر کوئی شخص اپنی سوچ کو اچھی طرح سمجھ کر اپنے اخلاقی مسئلے اور اندرونی کشمکش کو قابل اعتماد انداز میں بیان کرے، تو عام طور پر اس کی درخواست قبول ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
تاہم بعض اوقات درخواستیں مسترد بھی کر دی جاتی ہیں۔
فل ویرنگ بھی فوجی خدمت سے انکار کی درخواست دینے پر غور کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ فوجی خدمت نہیں کرنا چاہتے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں وفاقی جرمن فوج کی جانب سے سوالنامہ ملے گا، تو وہ اس میں ”کوئی دلچسپی نہیں‘‘ لکھ کر اپنا جواب دیں گے۔


