پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

نکولائی گوگل کی 217ویں سالگرہ: ادبی تقریب میں عالمی ادب، سماجی شعور اور انسانی حقوق پر گہری گفتگو

گوگل کی تحریریں آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ کس طرح حساس موضوعات اور حکومتی نظام پر تنقید کو فنی انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے

شہباز انور خان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: عالمی شہرت یافتہ روسی ادیب نکولائی گوگل کی 217ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے معروف اہلِ قلم، ماہرین تعلیم اور علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب کا اہتمام روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم اور ثقافت کی جانب سے کیا گیا۔

گوگل: حقیقت نگاری اور تنقید کا منفرد اسلوب

مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نکولائی گوگل ان چند عالمی فکشن رائٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کو ایک نیا اسلوب دیا۔ انہوں نے سماج کی کمزوریوں، تضادات اور حکمران طبقے کی خامیوں کو اس مہارت سے اجاگر کیا کہ اس دور کے حکمران بھی ان پر براہِ راست گرفت نہ کر سکے۔

تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گوگل کی تحریریں آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ کس طرح حساس موضوعات اور حکومتی نظام پر تنقید کو فنی انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

کلیدی خطاب: یوکرائنی ثقافت اور گوگل کا ادب

تقریب کے کلیدی مقرر ڈاکٹر امجد طفیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوگل کی تحریروں میں یوکرائن کی ثقافت، تمدن اور لوک دانش کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے مطابق گوگل کی کہانیوں کی بنیاد یوکرین کی دیہی زندگی پر ہے، جس نے ان کے فن کو ایک منفرد پہچان دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیودور دوستوئیفسکی اور لیو ٹالسٹائی جیسے عظیم ادیبوں نے بھی گوگل کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے طرزِ تحریر کو سراہا۔

ڈاکٹر امجد طفیل نے اردو ادب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غلام عباس وہ افسانہ نگار ہیں جن کی تحریروں میں گوگل کے اسلوب کے واضح اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

مہمانِ خصوصی کا خطاب: "ڈیڈ سولز” اور موجودہ سماج

تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ندیم بھٹی نے اپنے خطاب میں گوگل کے شہرہ آفاق ناول Dead Souls کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ سماجی حالات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ زارِ روس کے دور میں جب عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم تھے، تو گوگل نے "ڈیڈ سولز” لکھ کر انسانوں کو "مردہ روحوں” سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق آج پاکستان میں بھی لاکھوں افراد بنیادی حقوق سے محروم ہیں، جو ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا ہم واقعی ایک زندہ معاشرہ ہیں یا نہیں۔

انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور ترقی کے حوالے سے پاکستان عالمی درجہ بندی میں نچلے درجوں پر ہے، جبکہ لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔

دیگر مقررین کی آراء

پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ نکولائی گوگل نہ صرف ایک عظیم ادیب بلکہ ایک گہرے مفکر بھی تھے، جنہوں نے زار روس کے دور میں حقیقت نگاری کے ذریعے سماج کی اصل تصویر پیش کی۔

ڈاکٹر افتخار بخاری نے کہا کہ دنیا کے بڑے ادیبوں کی طرح گوگل نے بھی کم عمری میں عظیم ادبی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے محض 42 برس کی عمر پائی، مگر ان کی تحریروں نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی۔

ڈاکٹر شوذب علی نے گوگل کی زندگی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریریں آج کے دور کی بھی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں اور ان میں موجود پیغام آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے۔

ادبی روایات کا تسلسل

تقریب کے اختتام پر میزبان اور مرکز کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ یہ ادارہ عالمی ادبی شخصیات کے حوالے سے تقاریب کے انعقاد کی ایک مضبوط روایت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل لیو ٹالسٹائی، چنگیز آئتماتوف، الیکساندر پشکن، فیض احمد فیض اور میکسم گورکی کے حوالے سے بھی تقریبات منعقد کی جا چکی ہیں، اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

یادگاری شیلڈ کی پیشکش

تقریب کے اختتام پر پروفیسر ندیم بھٹی نے ڈاکٹر شاہد حسن کو یادگاری شیلڈ پیش کی، جبکہ اس موقع پر شہر کی اہم علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button