کالمزناصف اعوان

امریکا غلطی کر بیٹھا ہے ؟…..ناصف اعوان

اسرائیل جس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اس پر کوئی بم یا میزائل کا حملہ ہو گا اب وہ کھنڈر میں تبدیل ہو رہا ہے نیست ونابود ہونے جا رہا ہے

عام لوگوں کے لئے پُر آسائش زندگی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے ۔ ہمارے حاکموں نے اب تک یہی کہا کہ انہیں دیرینہ و گمبھیر مسائل سے جلد نجات مل جائے گی پھر وہ ایسے ہوں گے جیسے کوئی بلبل کسی گلستان میں ڈھیروں خوشیاں کو آنے سینے میں لئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پے اڑتی جاتی ہے مگر ایسا نہ ہوا گُلستاں کی اداسی کبھی نہ گئی کبھی اس کے بہار کا جوبن نہ دیکھا گیا۔ ہم لوگ تب بھی ایک آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ہو سکتا ہے آج ہی وہ کچھ ہو جائے جس کے بارے میں ہم نے سن رکھا ہے مگر نہیں فی الحال منظر کچھ ایسا نظر آرہا ہے کہ محض دل کو طفل تسلی ہی دی جا سکتی ہے کہ ہمارے دکھ درد کو کوئی محسوس کرنے والا ہی کوئی نہیں ۔ سب اپنے عشرت کدوں میں بیٹھے لطیف احساسات سے محظوظ ہو رہے ہیں ۔
غربت کیا ہوتی ہے بے بسی کسے کہتے ہیں اور راستوں کی صعوبتیں کیسی ہوتی ہیں انہیں کیا معلوم ۔ بس وہ اقتدار کے ایوانوں میں آتے ہیں اور پیچھے ہم لوگوں کو معاش و معیشت کے بھنور میں پھنسا کر رخصت ہو جاتے ہیں ۔ یہ سفر حیات جس میں سوائے دکھوں اور تکلیفوں کے کچھ نہیں ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا مگر یہ بھی ہے کہ وقت کبھی اپنے ایک مقام پر رکتا نہیں لہذا یہ جو ہر ایک مفلوک الحال پر گزر رہی ہے اسے بھی رکنا نہیں ۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اسے بدلنا ہی ہے ۔بے شک ریشم و کمخواب میں لپٹے جسموں نے مستقبل کو اسی طرح قائم و دائم رکھنے کے منصوبے بنا رکھے ہیں اور حکمت عملیاں تیار کر رکھی ہیں مگر یہ ان کی خوش فہمی ہے کہ یہ چمن فقط ان کے لئے ہی مہکے گا ؟ نہیں اب سب کے لیے یہ چمن مہکے گا کیونکہ ہواؤں کا رخ تبدیل ہو نے لگا ہے جن چند فیصد نے ہرآسائش اور ہر راحت کو اپنی حکمت عملیوں کے ذریعےسمیٹ رکھا تھا اب وہ نئی سمت کی جانب مڑنے لگی ہیں مگر ان چند فیصد کی پوری کوشش ہے کہ یہ سب جوں کا توں رہے وہ خوشحال رہیں ان کی نسلیں شاداں و فرحاں رہیں انہیں کوئی غم نہ ہو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو مگر ہونی ہو کر رہتی ہے۔ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔ امریکا نے سوچا تھا کہ ایران اس کے آگے سر اٹھائے گا وہ اسے دھمکی لگائے گا تو وہ سر تسلیم خم کر دے گا مگر ایسا نہیں ہوا تاریخ کی بے مثال مزاحمت ہو رہی ہے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے ۔ اسرائیل جس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اس پر کوئی بم یا میزائل کا حملہ ہو گا اب وہ کھنڈر میں تبدیل ہو رہا ہے نیست ونابود ہونے جا رہا ہے یہ تو ایک طرف اب تو شاید امریکا پر بھی آگ برسنے والی ہے کہ جس کی وجہ سے دنیاکے غریب عوام کو چین نصیب ہے نہ آرام۔ ان پر اس کے حامی قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں انہیں اذیت ناک صورت حال ںسے دوچار کیے ہوئے ہیں اور وہ سسک سسک کر اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں انہیں ذرا بھر اس کا دکھ نہیں مگر جنہیں یہ یقین تھا کہ ان کی حفاظت دنیا کی سپر پاور کرے گی اس کو سخت ہزیمت کا سامنا ہے وہ ان سلطنتوں سے رخصت ہوا چاہتا ہے مگر ایران کو دھمکی پے دھمکی دے رہا ہے کہ وہ اس کا حکم مان لے مگر اسے کیوں نہیں معلوم کہ اس کے سامنے ایک تاریخ ایک قوم اور ایک جذبہ کھڑا ہے جو سر کٹا تو سکتا ہے سر جھکا نہیں سکتا لہذا تاریخ بدل رہی ہے مگر امریکا کو کیوں یہ نظر نہیں آرہا ۔ وہ جس ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سپنا دیکھ رہا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہو گا کیونکہ اسے یہ اندازہ نہیں کہ اب وہ سپر پاور نہیں رہا ۔چین سپر پاور ہے اس کے ساتھی بھی بڑی پاوریں ہیں جو چاہیں توساری دنیا کو بھسم کر سکتی ہیں مگر وہ یہ سوچ نہیں رکھتیں ان کا کہنا ہے کہ جیو اور جینے دو اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جو انسانوں کو اپنے حصار میں لے کر ان کی زندگیاں ایک انگارا بنا کر رکھے ہوئے ہیں انہیں یہ منظر دھندلا نظر آنے لگا ہے لہذا وہ اپنا رخ مغرب کے بجائے مشرق کی طرف کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک دائرے سے دوسرے دائرے میں داخل ہونے جا رہے ہیں جو قطعی مختلف ہے انہوں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا مگر ایران اور اس کے دوستوں نے بتا دیا کہ وہ ظلم کے خلاف ہیں امریکا سے بالکل خوف زدہ نہیں جس نے ہر کسی کو سہمایا ہوا ہے اس کے بہی خواہ بھی ویسا ہے کر رہے ہیں ۔ کوئی قانون قاعدہ نہیں رہا مگر کب تک؟ جب ہاتھی کی ناک میں چیونٹی گھس جائے گی اور وہ زمین پر آرہا ہو گا تو اس کے یچھے چلنے والے واپس مڑ جائیں گے ؟
بہرحال ایران نے مزاحمت اختیار کرکے بتا دیا ہے کہ عزت آبرو سےجینا ہے تو کسی امریکا کے آگے نہیں جھکنا اس طرح اس نے کمزوروں کو ایک ایسی راہ دکھا دی ہے جس پر چل کر آزادانہ زندگی بسر کی جاتی ہے مگر بزدل لوگ کب یہ راستہ اختیار کرتے ہیں؟
انہیں صرف جینا ہے جس کے لئے خواہ ان کو اپنے ضمیروں کو ہی کیوں نہ سلانا پڑے مگر یہ کوئی جینا نہیں کہ ہر سانس مشروط ہر قدم محدود اور ہر سوچ مقید ۔ خلیل جبران کہتا ہے کہ ہاتھ میں بارہ چڑیاں بھی ہوں تو کچھ نہیں درخت پر دو بھی ہوں تو کافی ہیں“ جو مزہ آزاد فضا میں جینے کا ہے وہ کسی قید خانہ میں کہاں ؟ لہذا آج جو بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے مصنوعی پاسے ہنس رہے ہیں ان پر ایک ایسا دباؤ ہے جس سے وہ بے حال ہیں مگر وہ دن دُور نہیں کہ جب وہ مجبور ہوں گے کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کریں کیونکہ آخرکار ضمیر جاگ اٹھتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی گہری نیند میں کیوں نہ ہوں لہذا ہمیں نظر آرہا ہے کہ کل جو لوگ راحتوں کی وادیوں میں اٹھکیلیاں کر رہے تھے آج وہ خوف کی لہر میں لپٹے ہوئے ہیں اور اس سے چھٹکارا پانے کے لئے با آواز بلند کہہ رہے ہیں کہ کوئی انہیں محفوظ بنا دے ۔ بہر کیف امریکی صدر کو یہ مغالطہ تھا کہ وہی طاقتور ہے مگر اب اسے پتا چل چکا ہے کہ وہ بڑی طاقت نہیں ۔ اس لئے اداس گلستانوں میں جو خاموشی ہے ویرانی ہے اور مایوسی ہے وہ ختم ہونے والی ہے لہذا خزاں رسیدہ چہرے طویل عرصے کی تھکن اور آزردگی کے بعد ایک نئی دنیا کا نظارہ کر نے کے قریب ہیں جس میں ہر ذی روح امن کے نغمے گا رہا ہو گا !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button