
ایران جنگ میں مشروط سیزفائر، پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی
ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اس ملک کو ''بیشتر ممالک سے بہتر جانتا ہے۔‘‘
شہباز شریف کے مطابق یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی جس کا اعلان اس سے پہلے ٹرمپ اور تہران کر چکے تھے، اب پاکستان کے دارالحکومت میں مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔
جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگل مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”پاکستان نے کئی برسوں میں اپنی سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”اس نے بہت سے شکوک و شبہات رکھنے والوں اور ناقدین کو بھی غلط ثابت کر دیا، جو یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے پاس اتنے پیچیدہ اور اہم کام کو انجام دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کے ایران سے تعلقات کیسے ہیں؟
پاکستان کے سابق سفیر برائے تہران آصف درانی کے مطابق، ”پاکستان اس خطے کا واحد ملک ہے جس کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اسی وجہ سے اس کی سفارتی حیثیت مضبوط ہے۔‘‘
پاکستان کی جنوب مغربی سرحد ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر (560 میل) طویل ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط بھی موجود ہیں۔ ایران کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی شیعہ مسلم آبادی پاکستان میں ہی رہتی ہے۔
1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پاکستان نے بھی ایران کو ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر تسلیم کر کے اس کا ساتھ دیا تھا۔
واشنگٹن میں، جہاں ایران کا کوئی سفارت خانہ موجود نہیں ہے، پاکستان ایران کے بعض سفارتی مفادات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات
پاکستان کے طاقتور آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات مضبوط بنا لیے ہیں۔
منیر، جو گزشتہ سال وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ واشنگٹن گئے تھے، نے فوجی وردی کے بجائے مغربی طرز کا بزنس سوٹ پہن رکھا تھا۔ یہ دورہ اس وقت کیا گیا تھا، جب کشمیر کے تنازعے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی تھی۔
شہباز شریف نے ٹرمپ کے فیصلے کو ”دلیرانہ اور دور اندیش‘‘ قرار دیا، جبکہ منیر نے کہا کہ کشیدگی کم کروانے پر امریکی صدر نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔
ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اس ملک کو ”بیشتر ممالک سے بہتر جانتا ہے۔‘‘
ذاتی تعلقات نے اکثر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، حالانکہ یہ تعلقات بدلتے ہوئے اسٹریٹیجک مفادات کی وجہ سے بعض اوقات کشیدہ بھی رہے ہیں۔ حتیٰ کہ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے دوران، جب پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ حاصل تھا، تب بھی امریکہ نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایسے عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں پناہ دے رہا تھا، جو سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں کے ذمہ دار تھے۔
خطے کے دیگر اہم ممالک کا موقف کیا؟
پاکستان اور سعودی عرب نے 2025 میں باہمی اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کی حمایت میں اسلام آباد کی ممکنہ حد بھی محدود ہو گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت نے ریاض کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے میں تیزی دکھائی ہے، اور وزیر اعظم نے حال ہی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مذاکرات کے لیے سعودی عرب کا پھر ایک دورہ بھی کیا۔
پاکستان کے بیجنگ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ ٹرمپ نے اے ایف پی کو بتایا کہ چین نے ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد کی۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک اجلاس کی میزبانی کی تھی، جس میں تنازعے کو کم کرنے پر بات چیت ہوئی۔ بعد ازاں وہ مزید مذاکرات کے لیے بیجنگ بھی گئے تھے۔
چین، جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، نے اپنے دیرینہ جنوبی ایشیائی اتحادی پاکستان کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے منصوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ بیجنگ نے کہا کہ وہ ”صورتحال کو بہتر بنانے میں پاکستان کے منفرد اور اہم کردار‘‘ کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟
غیر جانبداری پاکستان کے لیے معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ ملک تیل اور گیس کی درآمدات کے لیے بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے اور وہ اپنے دروازے پر مزید کسی تنازعے میں الجھنے سے بچنا چاہتا ہے۔
اگر صورتحال میں خلل جاری رہتا تو ایندھن کی فراہمی مزید متاثر ہوتی، قیمتیں بڑھ جاتیں اور پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار حکومت کو مزید سخت معاشی اقدامات کرنا پڑتے۔
جنگ کا مستقل خاتمہ نہ صرف خطے کے استحکام کو بہتر بنائے گا بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو بھی مضبوط کرے گا۔ یہ ایسے وقت پر ہو گا جب پاکستان ایک طرف ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ مسلح کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک سال سے بھی کم عرصہ پہلے اس کا اپنے روایتی حریف ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ فوجی جھڑپوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ 10 اپریل سے ملکی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کا خیر مقدم کریں گے۔
پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی کے مطابق، ”ایران اسلام آباد میں خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرے گا، اسی لیے اس نے پاکستان کی ثالثی قبول کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر مذاکرات براہ راست ہوئے تو ”پاکستان تعطل کی صورت میں معاہدے کی زبان کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دونوں فریق آمنے سامنے ملاقات نہ کریں تو بھی پاکستانی حکام درمیان میں رابطہ کار کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل نے بدھ کے روز کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر بمباری روکنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے، تاہم اس کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جہاں اسرائیل ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ موقف پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان سے متصادم ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی ”ہر جگہ بشمول لبنان‘‘ پر لاگو ہو گی۔



