
کابل: پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ پیش رفت جاری، وزیر خارجہ
وزیر خارجہ نے بتایا کہ حال ہی میں چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت نہایت اہم رہی
کابل – افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری ہیں، اور دونوں ممالک مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے دیرپا حل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس عمل میں مثبت پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی۔
یہ بیان انہوں نے کابل میں منعقدہ افغانستان–وسطی ایشیا مشاورتی اجلاس کے اختتام پر دیا، جہاں خطے کے اہم ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ حال ہی میں چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت نہایت اہم رہی، جس میں دونوں فریقین نے باہمی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
علاقائی تعاون پر زور
مولوی امیر خان متقی نے اجلاس کے دوران وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے مثبت مؤقف اور حسنِ نیت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے کے ممالک کے ساتھ دینی، ثقافتی، لسانی اور تاریخی رشتوں کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان جغرافیائی طور پر ایک اہم حیثیت رکھتا ہے اور وہ وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیا کے درمیان ایک مؤثر تجارتی و اقتصادی پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت
افغان وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات افغانستان کی خارجہ پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بعض چیلنجز ضرور موجود ہیں، تاہم ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ باہمی احترام، خودمختاری اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
امن و سلامتی پر واضح مؤقف
مولوی امیر خان متقی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت ایسے تمام عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے جو خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اپنائی گئی ہے، جس میں سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں شامل ہیں۔
افغانستان کا مثبت کردار
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کو خطے کے لیے مسئلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان علاقائی تعاون، تجارت، اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی، بھائی چارے اور باہمی احترام کی مضبوط روایت رکھتی ہے، اور وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات چاہتی ہے۔
عالمی سطح پر سرگرم شرکت
اپنے بیان کے اختتام پر مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان علاقائی اور بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات کے قیام اور مشترکہ مسائل کے حل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائیں گی بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کریں گی۔



