
شہریوں کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار
حکام کے مطابق ملزم کی شناخت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری اشتہارات کے ذریعے کی گئی، جہاں وہ خفیہ طور پر شہریوں کے نجی اور حساس ڈیٹا کی خرید و فروخت میں ملوث تھا
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے خفیہ اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کے مرکزی سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد اور سہولت کاروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیاں
حکام کے مطابق ملزم کی شناخت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری اشتہارات کے ذریعے کی گئی، جہاں وہ خفیہ طور پر شہریوں کے نجی اور حساس ڈیٹا کی خرید و فروخت میں ملوث تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم مختلف آن لائن چینلز کے ذریعے خریداروں تک رسائی حاصل کرتا اور مالی فوائد کے عوض معلومات فراہم کرتا تھا۔
حساس معلومات کی فروخت کا انکشاف
ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم نہ صرف پاکستانی شہریوں کا ذاتی اور حساس ڈیٹا فروخت کر رہا تھا بلکہ اس نے مبینہ طور پر غیر ملکی ایجنسی کو بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات میں کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) اور پاکستانی نمبروں پر WhatsApp اکاؤنٹس کی فراہمی شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پہلو کی مزید گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نیٹ ورک کے روابط بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں یا نہیں۔
قومی سلامتی سے متعلق خدشات
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف شہریوں کی پرائیویسی بلکہ قومی سلامتی کے حوالے سے بھی انتہائی حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ فراہم کردہ ڈیٹا کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
قانونی کارروائی اور ایف آئی آر
ملزم کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اسے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام سہولت کاروں اور شریک ملزمان کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
این سی سی آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے مختلف شہروں میں ممکنہ چھاپوں اور ڈیجیٹل شواہد کے حصول کا عمل تیز کر دیا ہے۔ متعلقہ ادارے ڈیجیٹل فرانزک کے ذریعے ڈیٹا لیک کے ذرائع اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی تفصیلات اور فون نمبرز کو غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں، اور کسی بھی مشکوک آن لائن سرگرمی یا پیشکش کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
نتیجہ
حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیاب کارروائی سے ایک بڑے سائبر کرائم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔



