
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی دعوت پر جمعے کو امریکی اور ایرانی وفود مستقل جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آرہے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی تجاویز کو قبول کی اور عارضی جنگ بندی پر راضی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے شعلے نہ صرف خطے کو لپیٹ میں لے چکے تھے بلکہ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس جنگ میں بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے اس جنگ کی آگ کو دو ہفتوں کے لیے بجھا دیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’حکومت کو امید ہے کہ اللہ کے فضل اور عوام کے تعاون سے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے سعودی عرب، خلیجی ممالک، ترکیہ اور چین کا بھی تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ کشیدہ صورتحال کے دوران انتہائی اہم کردار ادا کیا اور کئی راتیں جاگ کر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل کے امریکی اور ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے رہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی لانے کی راہ ہموار ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دونوں نے مثبت ردعمل دیا، جو پاکستان کی سفارتی سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 کی جنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قومی ہیرو کے طور پر سامنے آئے اور انہوں نے سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کے اعلیٰ مقاصد کے لیے بھرپور محنت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے اور یہ امن کی جانب پہلا قدم ہے، جبکہ پاکستان کی منزل پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی ہے۔
وزیراعظم نے صدر آصف زرداری، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس پورے عمل میں بھرپور معاونت اور رہنمائی فراہم کی۔
قبل ازیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بدھ کو ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور خطے کی صورت حال پر بات چیت کی تھی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان خوش گوار اور دوستانہ گفتگو 45 منٹ سے زائد جاری رہی۔ گفتگو کے دورنا وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی دانش مندی اور دُوراندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، اور پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش قبول کی۔



