مشرق وسطیٰتازہ ترین

آبنائے ہرمز کو ذہانت سے کنٹرول کریں گے اور "محورِ مزاحمت” کی حمایت جاری رکھیں گے : ایران

اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے لبنان میں جنگ بندی کی پابندی کرنا لازم ہے

ایران
ایرانی مسلح افواج نے امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں مزید سخت جواب دینے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالے گا اور اسے ذہانت کے ساتھ کنٹرول کرے گا۔ مزید برآں انہوں نے لبنان، فلسطینی علاقوں، یمن اور عراق میں "محورِ مزاحمت” کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
ایرانی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے بدھ کے روز اس بات پر زور دیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ان کی "انگلی ٹریگر پر ہے” کیونکہ وہ امریکہ پر بھروسا نہیں کرتے۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر دشمن نے اپنی غلط فہمیوں کو دہرایا تو وہ بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، دشمن ہمیشہ سے دھوکے باز رہا ہے اور اس کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایرانی سفیر نے بھی کہا کہ تہران، امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں اعتماد کے فقدان کے باعث محتاط رہے گا اور فوجی طور پر ہمہ وقت تیار رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی کی پابندی کرے، کیونکہ حملوں کا تسلسل صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دے گا۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی وفد میں غیر معمولی تبدیلی کے امکانات ہیں، کیونکہ ایسی خبریں ہیں کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آئندہ جمعہ کو اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِسنا” کے مطابق یہ ذمہ داری قالیباف کو سونپے جانے کا امکان ہے، تاہم تاحال حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کیا، فریقین کو جمعہ کے روز اسلام آباد مدعو کر چکے ہیں تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
اگر ان معلومات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ قالیباف براہِ راست مذاکراتی کردار ادا کریں گے، کیونکہ ماضی میں یہ ذمہ داری وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس ہوتی تھی۔ حالیہ جنگ میں ایران کے درجنوں اعلیٰ حکام جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے تقرر کو 40 دن گزرنے کے باوجود وہ اب تک میڈیا کے سامنے نہیں آئے اور ان کی موجودگی صرف تحریری بیانات تک محدود ہے۔ توقع ہے کہ جمعہ کے مذاکرات ماضی کے برعکس براہِ راست ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button