
ٹرمپ کی ایران معاہدے کی تصدیق ، تہران کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کوکسٹم ڈیوٹی کی دھمکی
امریکی صدر کے مطابق B-2 بم بار طیاروں کی بم باری کے باعث ایرانی یورینیم زمین کے نیچے دفن ہو چکا ہے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی نظام میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور بی-2 بم بار طیاروں کے حملوں کی وجہ سے ایرانی یورینیم زمین دوز ہو چکا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ 8 اپریل سے ان تمام ممالک پر 50 فی صد کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی جائے گی جو ایران کو اسلحہ فراہم کریں گے، اور اس ضمن میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
آج بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا کیونکہ وہاں نظام میں انتہائی مفید تبدیلی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہو گی اور امریکہ ایران کے تعاون سے اس تمام جوہری "گرد و غبار” کو نکالنے اور تلف کرنے پر کام کرے گا جو بی-2 بمبار طیاروں کی کارروائی کے بعد گہرائی میں دب چکا ہے۔ صدر کے مطابق سیٹلائٹ (اسپیس فورس) کے ذریعے اس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور حملے کے بعد سے اسے چھوا تک نہیں گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محصولات اور پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور پندرہ میں سے کئی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن کی شرائط کے مطابق مناسب معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ گذشتہ روز انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی باہمی جنگی بندی کا بھی اعلان کیا تھا، جس کی بنیاد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادگی بنی۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تہران نے جنگ بندی کے لیے دس شرائط پیش کی تھیں جنہیں تسلیم کرنے پر امریکہ کو مجبور ہونا پڑا۔ ان شرائط میں عدم جارحیت، آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول، ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کا تسلسل، پابندیوں کا خاتمہ، ہرجانے کی ادائیگی اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ امریکہ نے صرف 38 دنوں میں ایران میں اپنے اہم فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں، جبکہ اس آپریشن کے لیے 4 سے 6 ہفتوں کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے "ایپک فیوری” نامی آپریشن کی کامیابی کو امریکی فوجیوں کی مہارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان فوجی کامیابیوں نے واشنگٹن کو مذاکرات میں برتری فراہم کی ہے، جس سے سفارتی تصفیے اور طویل مدتی امن کی راہ ہموار ہوگی۔



