
بیروت پر اسرائیل کے شدید فضائی حملے، 89 افراد جاں بحق، لبنان جنگ بندی سے باہر قرار
بیروت کے مرکزی علاقوں میں بغیر کسی پیشگی وارننگ کے ہونے والے حملوں سے شدید تباہی ہوئی، شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں اور مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
BY www.vogurdunews.de
بیروت سمیت لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج نے محض 10 منٹ کے اندر بیک وقت تقریباً 100 فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم 89 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان پر یہ شدید حملے اس وقت کیے گئے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، تاہم اسرائیل نے لبنان کو اس معاہدے سے باہر قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد کمانڈ سینٹرز اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جسے جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
بیروت کے مرکزی علاقوں میں بغیر کسی پیشگی وارننگ کے ہونے والے حملوں سے شدید تباہی ہوئی، شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں اور مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کے لیے ملک بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی لبنان کے لیے خصوصی کوآرڈینیٹر ژینین ہینس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تشدد جاری نہیں رہ سکتا اور کسی بھی فریق کے لیے طاقت کے ذریعے کامیابی ممکن نہیں۔
لبنانی صدر جوزف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کو بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل کیا جائے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان پر جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ حملے روک دیے گئے ہیں، تاہم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ اسرائیلی آرمی چیف ایزال زامیر نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے خاتمے تک آپریشن بغیر کسی سمجھوتے کے جاری رکھا جائے گا۔



