
ایران کی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی شرائط پر مذاکرات جاری: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
ایران کی پہلی پیشکش کو “ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا” ہے اور اس پر مزید بات چیت نہیں ہو رہی
By www.vogurdunews.de
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ابتدائی 10 نکاتی تجویز کو امریکا نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب دونوں ممالک کے درمیان نئی شرائط پر مذاکرات جاری ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ایران کی پہلی پیشکش کو “ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا” ہے اور اس پر مزید بات چیت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بین الاقوامی میڈیا ادارے اس حوالے سے غلط تاثر دے رہے ہیں۔
میڈیا پر تنقید اور پروپیگنڈے کا الزام
جے ڈی وینس نے The New York Times پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے اور یہ تاثر دے رہا ہے کہ امریکا اب بھی ابتدائی تجویز پر غور کر رہا ہے، جو حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے بعض عناصر دانستہ طور پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔
15 نکاتی منصوبہ: اختلاف کم، اتفاق زیادہ
امریکی نائب صدر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر 15 نکاتی منصوبے میں صرف تین نکات پر اختلاف ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریق کئی اہم امور پر پہلے ہی کسی حد تک متفق ہو چکے ہیں، جو مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور اسلام آباد مذاکرات
جے ڈی وینس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، جسے خطے میں سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اعتماد کا فقدان: سب سے بڑا چیلنج
امریکی نائب صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی وجہ سے دونوں جانب احتیاط پائی جاتی ہے، تاہم مذاکرات کا جاری رہنا خود ایک مثبت اشارہ ہے۔
سخت وارننگ: سودے بازی کے نتائج
جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے مذاکرات میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا یا غیر ضروری سودے بازی کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے اور کسی بھی تاخیری حربے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جنگ بندی اور لبنان کا معاملہ
سیز فائر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی میں معمولی خلاف ورزیاں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہوتا ہے۔
لبنان سے متعلق سوال پر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ لبنان کسی جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس معاملے کو بنیاد بنا کر مذاکرات سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
تیل کی قیمتیں اور عالمی صورتحال
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ پیش رفت عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔
پابندیوں میں نرمی کا امکان
امریکی نائب صدر نے عندیہ دیا کہ امریکا ایران کے ساتھ “دینے اور لینے” کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق اگر ایران مثبت پیش رفت دکھاتا ہے تو اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی سمیت دیگر رعایات دی جا سکتی ہیں، تاہم اس کا انحصار ایران کے عملی اقدامات پر ہوگا۔
نتیجہ: نازک مگر اہم مرحلہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک نازک مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ابتدائی تجویز کی مکمل مستردی کے باوجود نئے نکات پر بات چیت جاری ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی مفاہمت کی تلاش میں ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔



