
روئٹرز، اے ایف پی کے ساتھ
وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وینس نے کہا، ”صدر ٹرمپ نے مجھے اور پوری مذاکراتی ٹیم کو، وزیر خارجہ اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کام کریں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”وہ بے صبر ہیں۔ وہ پیش رفت دیکھنے کے لیے بے صبر ہیں۔ انہوں نے ہمیں نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ہدایت کی ہے، اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ (ایران) بھی نیک نیتی سے مذاکرات کریں تو ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑی شرط ہے، اور آخرکار یہ ایرانیوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح مذاکرات کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ درست فیصلہ کریں گے۔‘‘

ایرانی وفد
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان مذاکرات کے لیے ایک خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کی تصدیق کی، جو آج جمعرات کی شب اسلام آباد پہنچے گا۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”اسرائیلی حکومت کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث ایرانی عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باوجود … ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے تاکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر سنجیدہ مذاکرات کیے جا سکیں۔‘‘
شہباز شریف نے کہا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے اس گفتگو کو ”گرمجوش اور بامعنی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کی اس بات پر تعریف کی کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کی پیشکش قبول کرتے ہوئے ”دانشمندی اور بصیرت‘‘ کا مظاہرہ کیا گیا۔

سکیورٹی کے زبردست انتظامات
ان بہت اہم مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون، اہم سرکاری عمارات، سفارتی انکلیو اور داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
شہر میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال اور اسلام آباد مذاکرات کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔
محسن نقوی نے کہا، ”تمام غیر ملکی مہمانوں کو ہر لحاظ سے فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کا جامع پلان مرتب کیا ہے۔‘‘
پاکستان نے ملکی دارالحکومت میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متوقع مذاکرات سے قبل جمعرات سے دو دن کی مقامی تعطیلات کا مختصر نوٹس پر اعلان کر دیا ہے۔
بدھ کی رات اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن میں تعطیلات کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم دارالحکومت میں اعلیٰ سطحی سفارتی تقریبات سے قبل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اکثر تعطیلات یا مقامی سطح پر پابندیوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔
اس دوران لازمی خدمات فراہم کرنے والے دفاتر کھلے رہیں گے، جن میں پولیس، ہسپتال اور بجلی و گیس کی فراہمی کے ادارے شامل ہیں۔
مقامی ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مقامی رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ”اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اسی کے مطابق کریں۔‘‘
دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات سے جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے اور جنگ بندی پہلا قدم ہے، ”مگر ہماری منزل پائیدار اور دیر پا امن اور ترقی اور خوشحالی ہیں۔‘‘



