
By www.vogurdunews.de
جرمنی نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کو عالمی سفارتکاری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ جرمن قیادت نے اس پیش رفت کو نہ صرف سراہا بلکہ اس میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بھی کھلے الفاظ میں تسلیم کیا، جو حالیہ کشیدگی کے خاتمے میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ایک مثبت اور خوش آئند قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی امن کی کوششوں کو بھی تقویت دے گی۔
چانسلر مرز نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے جرمن حکومت کی جانب سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کیا ہے۔
چانسلر مرز کے مطابق، اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ایک جامع اور دیرپا حل کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈےفیہول نے بھی اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "آخرکار سیاست کے میدان سے بھی کوئی خوش آئند خبر آئی ہے” اور اس جنگ بندی کو ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیا۔
ان کے مطابق، یہ فیصلہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گا اور عالمی برادری کو سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کا نیا موقع فراہم کرے گا۔
وزیر خارجہ واڈےفیہول نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہتی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک اور ناقابلِ تصور ہو سکتے تھے۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیدہ مذاکرات کی جانب بڑھیں تاکہ ایک مستقل اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
جرمن حکومت نے خاص طور پر پاکستان کے کردار کو سراہا، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم ثالثی کی۔
مبصرین کے مطابق، پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ جنگ بندی عارضی ہے، لیکن یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ہو سکتی ہے جو بالآخر مستقل امن پر منتج ہو۔
جرمنی سمیت دیگر عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ تمام فریقین مذاکرات کی میز پر آئیں اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔
جرمنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سفارتی عمل کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔



