یورپتازہ ترین

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق ایران میں 3,600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مصنف: پیٹر ہِلے
ایران جنگ کی سب سے زیادہ قیمت حالانکہ خطے کے عام شہری چکا رہے ہیں، تاہم اس جنگ نے خلیج سے بھی کہیں آگے تک طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کچھ ملکوں نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے جبکہ بعض کا اثر کم ہوا ہے۔
ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد 40 دن تک جاری رہنے والے شدید حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد جنگ وقتی طور پر رک گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور پورے خطے میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور بہت سے لوگ بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔ گھروں، بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے اپنے اس پڑوسی ملک پر اس وقت کے بعد سے سب سے شدید حملے کیے جب گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، لیکن تنازعات عالمی سیاست کو بدل دیتے ہیں۔ یہ اتحادوں، توانائی کی منڈیوں اور عالمی اثر و رسوخ کو متاثر کرتے ہیں۔ ایران جنگ کو اس زاویے سے دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ طاقت کا توازن صرف مشرق وسطیٰ ہی میں نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
ایران اس تنازعے کا مرکزی فریق ہے۔ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل نے وہاں فوجی اہداف اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے کیے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق ایران میں 3,600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ سیاسی اور فوجی شخصیات بھی شامل ہیں، اور ایک گرلز اسکول میں ہلاک ہونے والے وہ 165 افراد بھی ان میں شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر چھوٹی بچیاں تھیں۔ اس کے باوجود اور قیادت کے بڑے نقصان کے بعد بھی ایران کے سیاسی نظام کا بنیادی ڈھانچہ برقرار ہے۔
امریکی سیاسی تجزیہ کار اور یوریشیا گروپ کے صدر ایان بریمر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”حکومت کی تبدیلی کی جانب کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ایرانی عوام کو بچانے کے لیے بھی کوئی واضح اقدامات نہیں کیے جا رہے، حالانکہ اس تنازعے کے ابتدائی دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے ایک مقصد کے طور پر بیان کر رہے تھے۔
اس کے جواب میں ایران کی حکومت نے ایک پرخطر قدم اٹھایا۔ اس نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا اور صرف چند ممالک کو ہی اس کے استعمال کی اجازت دی۔ یہ وہ تنگ سمندری راستہ ہے جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد برآمدی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔
یہ حکمت عملی بظاہر کامیاب رہی۔ تہران نے شکست تسلیم کیے بغیر جنگ بندی حاصل کر لی۔ حکومت اس جنگ بندی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتی ہے کہ اس نے امریکہ اور اس کی پوری فوجی طاقت کا مقابلہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کو بھی مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر لیا۔ اس طرح ایران کی حکومت قائم رہی ہے اور اسے اگلے مرحلے کو اپنے لیے زیادہ سازگار شرائط پر ترتیب دینے کے لیے وقت مل گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نتیجے کو ‘مکمل اور بھرپور فتح‘ قرار دیا ہے۔ تاہم بہت سے تجزیہ کار اس سے متفق نہیں ہیں۔
امریکی سیاسی تجزیہ کار ایان بریمر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”انہوں نے کچھ اہداف حاصل کیے ہیں۔ اگر آپ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھیں تو اس کی روایتی بیلسٹک میزائل صلاحیتیں اور بحری صلاحیتیں بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہیں۔‘‘
ایران کے جوہری پروگرام کے بعض حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ بات واشنگٹن کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس جنگ کا ایک بنیادی مقصد تھا۔
لیکن امریکہ کو بھی نقصانات اٹھانا پڑے۔ ایرانی حملوں سے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار نظام اور طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ خلیجی اتحادیوں کے محافظ کے طور پر امریکہ کی ساکھ کو بھی شدید دھچکا لگا، کیونکہ ایران نے نہ صرف امریکی فوجی اڈوں بلکہ اپنے پڑوسی ممالک میں اہم بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا۔
واشنگٹن کی جانب سے اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر جنگ شروع کرنے کے باعث یورپ اور نیٹو کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی۔
امریکہ ابھی تک ایران کے رویے کو اس طرح تبدیل نہیں کر سکا جیسے وہ چاہتا تھا، اور اس جنگ کی وجہ سے اس کی عالمی ساکھ پر پڑنے والے اثرات ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔
اسرائیل نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کیا ہے۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اپنی سرحدوں سے بہت دور تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسے اب بھی امریکہ کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔
تاہم اس جنگ نے اسرائیل کی بعض کمزوریاں بھی نمایاں کر دیں۔ ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ ڈالا، اور کچھ میزائل دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب رہے، جس کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی جانب سے خطرہ بدستور موجود ہے۔
فواز جرجس جو لندن اسکول آف اکنامکس سے وابستہ ہیں، نےبتایا کہ اس جنگ کے بعد اسرائیل ممکن ہے کہ ”کافی حد تک کمزور‘‘ ہو کر ابھرے۔
ان کے مطابق سفارتی نقصان خاص طور پر خطے میں نمایاں ہو سکتا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک اب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید گہرے کرنے میں کم دلچسپی دکھا سکتے ہیں۔
طویل مدت میں چین کو اس صورتحال سے فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنی بہت سے فوجی طاقت مشرق وسطیٰ منتقل کر دی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈوپیسیفک خطے میں کم وسائل رہ گئے ہیں، جہاں واشنگٹن اور بیجنگ اثر و رسوخ کے لیے آپس میں مقابلہ کرتے ہیں۔
ایان بریمر کا کہنا تھا، ”چین کو فائدہ صرف اس لیے نہیں ہو رہا کہ امریکہ ایشیا کے فوجی ماحول پر کم توجہ دے رہا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ امریکہ کو اب اس کے اپنے اتحادی کم قابل اعتماد سمجھنے لگے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چین نسبتاً زیادہ مستحکم کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘‘
لڑائی کے دوران بیجنگ نے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی مسلسل اپیل کی اور جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ اس نے خود کو ایک ذمہ دار عالمی کردار کے طور پر پیش کیا جبکہ ساتھ ہی اپنے معاشی مفادات کا تحفظ بھی کیا۔
چین ایران کی تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، اکثر رعایتی قیمتوں پر۔ تاہم حالیہ عرصے میں اس نے بڑے توانائی ذخائر قائم کر لیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات کو بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر طریقے سے برداشت کر سکتا ہے۔
اس جنگ نے روس کو کئی طریقوں سے فائدہ پہنچایا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ماسکو کی آمدنی میں اضافہ ہوا، ایسے وقت میں جب یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے اس کے بجٹ پر دباؤ تھا۔ تیل کی متبادل فراہمی کی تلاش میں بعض ممالک نے پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کی۔
اگرچہ جنگ بندی کے بعد قیمتیں کچھ کم ہو گئی ہیں، لیکن اس سے ایک اور فائدہ ہوا ہے: عالمی توجہ بڑی حد تک روسی یوکرینی جنگ سے ہٹ گئی ہے۔
ایان بریمر کے مطابق، ”امریکہ نے اپنی بہت سی فوجی صلاحیتیں خلیج کے علاقے میں منتقل کر دی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہتھیاروں کے نظام جو یوکرین کو درکار ہیں، اب اسے دستیاب نہیں ہوں گے۔‘‘
تاہم اس صورتحال کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ ایران خطے میں روس کے چند قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے، اس لیے ایران کی کمزوری روس کے لیے بھی نقصان سمجھی جا سکتی ہے۔
ایرانی حملوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا۔ اربوں ڈالر مالیت کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور ان کے تحفظ کے احساس کو شدید دھچکا لگا۔
اس کے باوجود کچھ ممالک کو فائدہ بھی ہوا۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر تک تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل جاری رکھی۔
ایان بریمر کے مطابق، ”سعودی عرب کا بجٹ دراصل کافی امید افزا نظر آتا ہے کیونکہ وہ بڑی مقدار میں توانائی برآمد کر رہا ہے اور اس کے بدلے بہت زیادہ قیمت بھی حاصل کر رہا ہے۔‘‘
دوسری جانب کچھ ممالک زیادہ خطرات سے دوچار ہوئے۔ متحدہ عرب امارات غیر ملکی کارکنوں اور سرمایہ کاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ بریمر کے مطابق، ”یو اے ای کی ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کا تقریباً 90 فیصد حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے، اور انہیں اس بات پر مطمئن ہونا چاہیے کہ یہ ان کے لیے محفوظ جگہ ہے۔‘‘
سلامتی کے خدشات نے ان ممالک کی اس شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے کہ وہ انتہائی محفوظ ہیں، جو دراصل ان کے معاشی ماڈل کا ایک بنیادی ستون ہے۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا کے دیگر حصوں کی طرح یورپ میں بھی گھریلو صارفین اور صنعتوں دونوں کو متاثر کیا۔ جہاز رانی میں رکاوٹوں نے تجارت کو متاثر کیا اور ایسے وقت میں جب کئی یورپی معیشتیں پہلے ہی مشکلات کا شکار تھیں، افراط زر کا دباؤ بھی بڑھ گیا۔
اس صورتحال نے روایتی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ کئی یورپی حکومتوں نے امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت سے انکار کر دیا۔ بعض ممالک نے جارحانہ عسکری مشنز کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔
اس کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کو نیٹو سے نکال لینے کی دھمکی دی۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے، جس سے بہت سے یورپی ممالک خوفزدہ ہیں۔
پاکستان نے جنگ بندی کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اب مزید مذاکرات کی میزبانی کرنے والا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور اس نے کئی ہفتوں تک خاموشی سے دونوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کیا۔
اس نتیجے نے پاکستان کے کردار کو ایک علاقائی ثالث اور پاور بروکر کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے برعکس اس کا حریف بھارت اس پورے معاملے میں زیادہ تر پس منظر میں رہا اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں سے اسے خاصا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button