کاروبار

پاکستان کی عالمی امن کے لئے کاوشیں اہم سنگ میل ، انہیں نوبل امن انعام کے لیےمطالبہ،قیصر احمد شیخ

معزز چیف آف آرمی اسٹاف کی مربوط اور مشترکہ کاوشوں کے تحت خطے میں کشیدگی میں کمی اور اہم عالمی فریقین کے درمیان مکالمے کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے,وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کے اعزاز میں معروف کاروباری شخصیات،گلف گروپ کے چیئرمین سید احمد، شوئیب احمد اور علی فرقان نے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی روابط اور عالمی سطح پر مؤثر کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب میں ناروے، مراکش، قازقستان، فلپائن، ایتھوپیا، پولینڈ، جنوبی کوریا، جرمنی، تھائی لینڈ، ملائیشیا، برطانیہ، سعودی عرب، سری لنکا، فرانس، انڈونیشیا اور جاپان کے معزز سفارتکاروں نے شرکت کی اور تقریب کو رونق بخشی۔
اس موقع پر سفارتی برادری نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، حکومتِ پاکستان اور ملک کی سول و عسکری قیادت کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر مبارکباد پیش کی۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے پاکستان کے تعمیری اور فعال سفارتی کردار کو اجاگر کیا، جو معزز وزیر اعظم اور معزز چیف آف آرمی اسٹاف کی مربوط اور مشترکہ کاوشوں کے تحت خطے میں کشیدگی میں کمی اور اہم عالمی فریقین کے درمیان مکالمے کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی ان کوششوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے اور جنگ بندی کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ایک وسیع علاقائی تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کو عالمی برادری کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، اور یہ کاوشیں عالمی امن کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا متقاضی ہے اور اسے نوبل امن انعام کے لیے بھی زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے ان پیش رفتوں کے اقتصادی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تناظر میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پاکستان کے لیے تجارت، توانائی، علاقائی روابط اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے پاکستان اس وقت ایک منفرد پوزیشن میں ہے، جہاں وہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والے ایک علاقائی اقتصادی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری، خصوصاً ایران اور مشرق وسطیٰ سے ابھرنے والے مواقع، کو پاکستان کی جانب راغب کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان، وزیر اعظم کی قیادت اور قومی اداروں کے تعاون سے، پالیسی اصلاحات، سہولت کاری کے اقدامات اور مؤثر ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے سرمایہ کار دوست ماحول کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پائیدار امن اور جنگ بندی معاہدوں پر عملدرآمد خطے کی مکمل اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button