مشرق وسطیٰتازہ ترین

کچھ دیر کے لیے کھولنے کے بعد، ڈیل کی خلاف ورزیوں کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی

مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یہ آبنائے ایسے مال بردار بحری جہازوں کے لیے بند ہے، جن کے پاس وہاں سے گزرنے کے پرمٹ نہ ہوں

خبر رساں ادارے
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں سیزفائر ڈیل کے بعد خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز کو کچھ دیر کے لیے کھول دیا تھا، جیسا کہ اس بارے میں امریکہ کے ساتھ اتفاق رائے میں طے بھی ہوا تھا۔
تاہم کئی ہفتوں کی بندش کے بعد دوبارہ کھولے جانے سے محض کچھ ہی دیر بعد ایران نے اس تنگ سمندری راستے کو دوبارہ بند کر دیا، جس کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلادف ورزیاں بتائی گئی۔
دنیا بھر میں تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسی آبنائے سے مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے گزرتا ہے۔ مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یہ آبنائے ایسے مال بردار بحری جہازوں کے لیے بند ہے، جن کے پاس وہاں سے گزرنے کے پرمٹ نہ ہوں۔
اسی دوران کمرشل شپنگ کرنے والی کمپنیوں نے کہا ہے کہ انہیں اس راستے سے تجارتی مال برداری کی بحالی سے پہلے اپنے لیے مزید عملی وضاحتوں کی ضرورت ہے، تاکہ انہیں کسی اچانک ناخوشگوار صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قبل ازیں تہران نے اس بارے میں اتفاق کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس شرط پر کھولنے کے لیے تیار ہے کہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہاز ٹول ادا کریں، تاکہ ایران کو اپنے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ میسر آ سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button