
جرمن پبلک ہیلتھ کیئر سسٹم دنیا میں اپنی نوعیت کے مہنگے ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی میں ریاستی سطح پر کام کرنے والے ہیلتھ انشورنس ادارے اس نظام میں صحت عامہ کے تحفظ کے لیے روزانہ اوسطاﹰ تقریباﹰ ایک بلین یورو (1.15 بلین ڈالر) ادا کرتے ہیں، اور خدشہ ہے کہ ان سرکاری اخراجات میں آئندہ چند برسوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
اسی دوران عام جرمن صارفین اپنے لیے ہیلتھ انشورنس کی خاطر اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کو جو ادائیگیاں کرتے ہیں، ان میں اس سال اوسطاﹰ تین فیصد کا اضافہ پہلے ہی ہو چکا ہے، جبکہ گزشتہ برس بھی ان ادائیگیوں میں 2.5 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

مستقبل کی ممکنہ تشویشناک صورت حال
عام صارفین کی طرف سے ہیلتھ انشورنس کے لیے کی جانے والی ادائیگیوں میں اضافے کے باوجود جرمن اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
یہ فرق اس وقت بھی ہوش ربا حد تک زیادہ ہے اور خدشہ ہے کہ 2027ء میں یہ بڑھ کر سالانہ 15.3 بلین یورو اور 2030ء میں 40.4 بلین یورو ہو جائے گا۔
خصوصی کمیشن نے اس موضوع پر جو 66 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں، ان میں صرف اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق کو ہی کم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ اس بات پر بھی دھیان دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مالی بچتی اقدامات کہاں کہاں اور کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔
اس کمیشن میں، جس کے ارکان کی تعداد 10 تھی، اقتصادیات، طب اور سماجی اور قانونی شعبوں کے متعدد ماہرین شامل تھے۔
کمیشن نے اپنی جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کے بارے میں ناقدین کو یہ شکایت بھی ہے کہ تجویز کردہ اقدامات بہت زیادہ ہیں اور حکومت کے لیے ان سب پر عمل درآمد سیاسی مشکلات کے علاوہ بھی عملاﹰ کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

کمیشن کی پیش کردہ چند کلیدی تجاویز
اس اسپیشل کمیشن نے اپنی 480 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مجموعی طور پر جو 66 تجاویز پیش کی ہیں، ان میں یہ بھی شامل ہیں:
- الکوحل اور تمباکو مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ
- میٹھے سافٹ ڈرنکس پر نیا اضافی ٹیکس
- مریضوں کے طبی آپریشنوں کے لیے زیادہ بہتر منصوبہ بندی، جیسے گھٹنے کی تبدیلی کے آپریشن سے پہلے کسی دوسرے ڈاکٹر یا سرجن کی لازمی غیر جانبدارانہ رائے کا لیا جانا، اس لیے کہ جرمنی میں ایسے طبی آپریشنوں کی سالانہ ملکی اوسط یورپی یونین کے رکن کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
- مستقبل میں مریضوں کو ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کے لیے اپنی جیب سے اب تک کے مقابلے میں زیادہ رقوم کی ادائیگی پر قانوناﹰ پابند بنانا۔
- کسی بھی گھرانے میں اگر کمانے والا ایک ہی ہو اور اس گھرانے میں چھ سال سے کم عمر کے کوئی بچے نہ ہوں، تو شریک حیات کے لیے شوہر یا بیوی کی وجہ سے مفت ہیلتھ انشورنس کے سماجی طرز عمل کا خاتمہ اور ایسی صورت میں ہیلتھ انشورنس کے لیے اضافی مالی ادائیگی۔
- ایسے باشندے جو بے روزگار ہوں، ان کو ملنے والی ہیلتھ کیئر سہولیات کے لیے ادائیگی ہیلتھ انشورنس کمپنیاں نہ کریں بلکہ ایسے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے۔ صرف اس طرح ہی اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس ادارےسالانہ تقریباﹰ 12 بلین یورو کی بچت کر سکتے ہیں۔

وفاقی جرمن وزیر صحت نینا وارکن نے کہا ہے کہ ان کی وزارت ہیلتھ انشورنس سے متعلق اس خصوصی کمیشن کی پیش کردہ تجاویز کا جلد از جلد تفصیلی جائزہ لے گی اور انہی تجاویز کی روشنی میں ایک ایسا نیا مسودہ قانون تیار کیا جائے گا، جسے اسی سال موسم گرما میں بحث کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔



