
لبنان اور غزہ میں صحافیوں کی شہادتیں: جنگی حالات میں آزادیٔ صحافت کو سنگین خطرات
صحافیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ماہرین کے مطابق جنگی قوانین کے تحت صحافیوں کو شہریوں کی طرح تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور انہیں دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے
By www.vogurdunews.de
لبنان اور غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے دوران صحافیوں کی شہادت کی اطلاعاتنے عالمی میڈیا برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر جنگی علاقوں میں صحافیوں کی سلامتی اور آزادیٔ صحافت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
لبنان میں ہونے والے تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران دو خاتون صحافیوں کی شہادت کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ شہید ہونے والوں میں سوزان خلیل شامل ہیں، جو المنار ٹی وی سے وابستہ تھیں۔ وہ متاثرہ علاقوں سے رپورٹنگ کر رہی تھیں جب حملہ ہوا۔دوسری جانب غدہ الدیخ، جو صوت الفارہ ریڈیو سے منسلک تھیں، بھی اسی نوعیت کے حملے میں جاں بحق ہوئیں۔ رپورٹس کے مطابق غدہ الدیخ تقریباً 37 برس تک صحافت کے شعبے سے وابستہ رہیں اور لبنان میں ایک تجربہ کار اور معتبر آواز سمجھی جاتی تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق حملے انتہائی شدت کے حامل تھے، جن میں رہائشی اور میڈیا سے متعلقہ مقامات کو بھی نقصان پہنچا۔ مقامی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ادھر غزہ کی پٹی میں بھی ایک ڈرون حملے کے دوران صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق میڈیا سے وابستہ افراد اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں۔غزہ میں پہلے ہی جاری کشیدگی اور مسلسل حملوں کے باعث صحافی انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہو چکا ہے جہاں صحافت کرنا سب سے زیادہ جان لیوا ہو گیا ہے۔
ان واقعات کے بعد دنیا بھر کی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور رپورٹرز وِداؤٹ بارڈرز جیسے اداروں نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ماہرین کے مطابق جنگی قوانین کے تحت صحافیوں کو شہریوں کی طرح تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور انہیں دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ان تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
لبنان اور غزہ کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ تنازعات کے علاقوں میں صحافی کس قدر خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا ورکرز نہ صرف معلومات کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ وہ عالمی برادری کو زمینی حقائق سے آگاہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صحافیوں کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا رہا تو اس سے نہ صرف اطلاعات کا بہاؤ متاثر ہوگا بلکہ عالمی سطح پر شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی نقصان پہنچے گا۔
لبنان اور غزہ میں صحافیوں کی حالیہ شہادتیں ایک المناک یاد دہانی ہیں کہ جنگ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی لپیٹ میں وہ افراد بھی آ جاتے ہیں جو سچ کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔



