
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پنجاب آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن اتھارٹی (پیڈرا) کا اہم اجلاس
سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی اور ڈی جی اے ڈی آر اے جاوید اکبر بھٹی کی بریفنگ ،عام آدمی کو اس کے قانونی حقوق اور اے ڈی آر کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی،اردو نیوز کے ساتھ
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پنجاب آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن اتھارٹی (پیڈرا) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی کے رولز میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی اور ڈی جی اے ڈی آر اے جاوید اکبر بھٹی نے صوبائی وزیر کو جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈرا کا قیام ایک انقلابی اقدام ثابت ہوگا جس سے نہ صرف صوبے کے عوام بلکہ اوورسیز پاکستانی بھی بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔ صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ اتھارٹی کے قیام سے سائلین کو بروقت اور کم لاگت میں انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ رولز 2019 میں بنائے گئے تھے، تاہم بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر ان میں ترامیم ناگزیر ہیں۔ مزید برآں، ترامیم کے بعد مکمل قانون سازی (ایکٹ) کی جانب بھی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ مزید بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں اے ڈی آر سینٹرز کے قیام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا جبکہ اس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تربیتی پروگرامز، خصوصی ادارے اور انسٹیٹیوٹ بھی قائم کیے جائیں گے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن تنازعات کے حل (آن لائن ڈسپیوٹ ریزولوشن) کو فروغ دیا جائے گا، جس سے شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا جائے گا تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے مجوزہ ڈرافٹ میں اس کے تمام فنکشنز، تعیناتی کے طریقہ کار، ٹرانسفر پالیسی اور دائرہ کار کو واضح طور پر شامل کیا جائے تاکہ ادارہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہےکہ اے ڈی آر سسٹم کے فروغ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عام آدمی کو اس کے قانونی حقوق اور اے ڈی آر کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اجلاس میں محکمہ قانون کے عہدیداران اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔



