کاروباراہم خبریں

پاکستان میں بجٹ2025ء کی شفافیت کاحقائق نامہ”

بجٹ سازی کے مرحلے میں شفافیت سب سے کم رہی۔ بیشتر حکومتیں بجٹ کال سرکلر عوام کے لیے جاری نہیں کرتیں جس سے یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ مختلف محکمے کس بنیاد پر بجٹ تجاویز تیار کر رہے ہیں

 

 

رپورٹ۔ پیر مشتاق رضوی،وائس آف جرمنی اردو نیوز

سنٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشیٹوز(سی پی ڈی آئی) نے "پاکستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال 2025” کے عنوان سے اپنی تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں یعنی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بجٹ شفافیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔یہ رپورٹ مالی سال 2024-25 کا احاطہ کرتی ہے کیونکہ مالی سال 2025-26 اس وقت جاری ہے۔ بجٹ پر عملدرآمد، اخراجات، آڈٹ رپورٹس اور احتساب سے متعلق مکمل معلومات مالی سال کے اختتام کے بعد دستیاب ہوتی ہیں۔ اس لیے مالی سال 2024-25 کا تجزیہ بجٹ شفافیت کی حالیہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں بجٹ کے چار اہم مراحل یعنی بجٹ سازی، بجٹ منظوری، بجٹ پر عملدرآمد اور نگرانی و احتساب کا جائزہ لیا گیا ہے۔پاکستان میں مجموعی طور پر بجٹ شفافیت کی صورتحال کمزور اور غیر مساوی ہے۔ اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئینی تقاضوں کے مطابق بجٹ پیش کرتی ہیں، تاہم بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شرکت محدود ہے اور شہریوں کو بجٹ کی تیاری میں شامل کرنے کے مؤثر طریقہ کار موجود نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق بجٹ کی منظوری کے بعد شفافیت مزید کم ہو جاتی ہے اور بجٹ پر عملدرآمد کے دوران معلومات کی دستیابی محدود رہتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ بجٹ میں مختص وسائل کس طرح خرچ کیے جا رہے ہیں۔بجٹ سازی کے مرحلے میں شفافیت سب سے کم رہی۔ بیشتر حکومتیں بجٹ کال سرکلر عوام کے لیے جاری نہیں کرتیں جس سے یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ مختلف محکمے کس بنیاد پر بجٹ تجاویز تیار کر رہے ہیں۔اسی طرح مجوزہ بجٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کیے جاتے جس سے شہریوں، میڈیا اور سول سوسائٹی تنظیموں کو بجٹ پر رائے دینے کا موقع نہیں ملتا۔ بعض حکومتوں نے پری بجٹ مشاورت کا انعقاد کیا تاہم ان مشاورتوں کا دائرہ کار محدود رہا اور ان کے اثرات حتمی بجٹ میں واضح طور پر نظر نہیں آئے۔مزید برآں شہری دوست بجٹ دستاویزات کی کمی بھی دیکھی گئی جس سے عام شہریوں کے لیے بجٹ کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ معذور افراد کے لیے بھی بجٹ دستاویزات کو قابل رسائی بنانے کے اقدامات محدود رہے۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بجٹ منظوری کے مرحلے میں بھی شفافیت محدود رہی۔ بجٹ پر بحث کے لیے محدود دن مختص کیے گئے جس کی وجہ سے بجٹ کا تفصیلی جائزہ ممکن نہ ہو سکا۔قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہا اور کئی صورتوں میں کمیٹی رپورٹس عوام کے لیے دستیاب نہیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ بجٹ پر عوامی نمائندوں کی شرکت بھی محدود رہی جس سے بجٹ منظوری کے عمل میں مؤثر پارلیمانی نگرانی ممکن نہ ہو سکی۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بجٹ منظوری کے عمل میں شہریوں اور سول سوسائٹیز کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔ بجٹ منظوری کے بعد شفافیت مزید کم ہو جاتی ہے۔ بیشترحکومتوں نے سہ ماہی بجٹ اخراجات کی رپورٹس شائع نہیں کیں جبکہ وسط سالی جائزہ رپورٹس بھی بروقت جاری نہیں کی گئیں۔
اس کے باعث شہریوں اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ بجٹ میں مختص فنڈز کس حد تک خرچ ہوئے اور ان کے نتائج کیا رہے۔ مزید برآں بجٹ اخراجات سے متعلق معلومات محدود رہیں جبکہ بجٹ ڈیٹا بھی قابل رسائی فارمیٹ میں دستیاب نہیں تھا جس سے تجزیہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس مرحلے میں کارکردگی کے اشاریوں کی کمی بھی دیکھی گئی جس سے بجٹ کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔جبکہ نگرانی اور احتساب کے نظام میں بھی کمزوریاں پائی گئیں۔ آڈٹ رپورٹس میں تاخیر دیکھی گئی جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کی جانب سے آڈٹ اعتراضات پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔اسی طرح حکومتوں کی جانب سے معلومات کی از خود فراہمی محدود رہی جس سے شفافیت متاثر ہوئی۔ احتساب کے کمزور نظام کے باعث حکومتی اخراجات پر مؤثر نگرانی ممکن نہیں ہو رہی ہے پنجاب نے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ وفاقی حکومت دوسرے نمبر پر رہی۔ سندھ کی کارکردگی درمیانی رہی جبکہ خیبر پختونخوا میں شفافیت کے اشاریے کمزور رہےبلوچستان میں بجٹ شفافیت کی صورتحال سب سے کمزور رہی۔تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی حکومت میں بھی مکمل شفافیت موجود نہیں تھی اور تمام حکومتوں کو شفافیت بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسمبلیوں میں محدود بحث کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ بجٹ پر محدود دن مختص کیے جانے کے باعث ارکان اسمبلی کو بجٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کا موقع نہیں ملا جس سے پارلیمانی نگرانی کمزور رہی۔ یہ صورتحال جمہوری عمل کو متاثر کرتی ہے اور بجٹ سازی میں عوامی نمائندگی کو کمزور بناتی ہے۔رپورٹ میں کچھ مثبت اقدامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔حکومتوں نے بجٹ آئینی مدت کے اندر پیش کیے، کچھ دستاویزات کی دستیابی میں بہتری آئی اور پری بجٹ مشاورت میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تاہم مجموعی طور پر بجٹ شفافیت کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجٹ شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ شفاف بجٹ سے بہترحکمرانی، مؤثر عوامی خدمات، مضبوط احتساب اور عوامی اعتماد میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
سنٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (CPDI) اور سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاؤنٹیبلٹی (CNBA) نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ دستاویزات بروقت شائع کی جائیں، اسمبلیوں میں بحث کے دن بڑھائے جائیں، عوامی شرکت کو یقینی بنایا جائے، سہ ماہی اخراجات کی رپورٹس جاری کی جائیں اور آڈٹ و احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان میں بجٹ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو حکومتی اخراجات پر مؤثر نگرانی کا موقع فراہم ہو سکے۔
بجٹ کی شفافیت کا مطلب ہے: حکومت پیسہ کہاں سے لے گی اور کہاں خرچ کرے گی، یہ ساری معلومات عوام کے سامنے واضح ہو۔ پاکستان میں اس حوالے سے صورتحال ملی جلی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ شفافیت اور اعتباریت کمزور پڑتی ہے کیونکہ بجٹ معلومات بہت پیچیدہ ہوتی ہیں بجٹ دستاویزات ہزاروں صفحات پر مشتمل، تکنیکی زبان میں۔ عام شہری کو سمجھ نہیں آتا مالی سال کے دوران اربوں روپے کے اضافی خرچے بغیر پیشگی منظوری کے کر لیے جاتے ہیں۔ 2024-25 بجٹ میں 1.5 ٹریلین کا ترقیاتی بجٹ رکھا جاتا ہے، مگر سال کے آخر میں فنڈز کی کمی کہہ کر 700-800 ارب تک کاٹ دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اشرافیہ کے لئے ایمنسٹی سکیمیں لائی جاتی ہیں بڑی من پسند کمپنیوں کو خاموشی سے ٹیکس چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ بجٹ تقریر میں ذکر نہیں ہوتا۔وفاق صوبوں کو NFC کے تحت پیسہ دیتا ہے، مگر صوبے آگے اضلاع کو کتنا دیں گے، اس کی شفافیت کم ہے۔ بجٹ بناتے وقت عوام سے رائے نہیں لی جاتی۔پاکستان میں بجٹ شفافیت میں بہتری لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر ضلع کو بتایا جائے کہ صحت، تعلیم، سڑکوں کے لیے کتنا پیسہ آیا اور کہاں لگا۔؟ ٹریکر سسٹم کے تحت ریئل ٹائم ویب سائٹ جہاں ہر منصوبے کا خرچ لائیو نظر آئے۔ بجٹ سے 3 مہینے پہلے عوامی تجاویز لی جائیں۔ضمنی بجٹ پر مکمل پابندی ہو ایمرجنسی کے علاوہ سال کے دوران نئے خرچے نہ کیے جائیں۔ بجٹ آسان زبان میں یعنی اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں جاری کیا جائے
کاغذ پر پاکستان کا بجٹ دستاویزات کی شکل میں موجود ہوتا ہے، اس لیے مکمل خفیہ نہیں۔ مگر *عام آدمی تک بات پہنچتی نہیں، خرچے بدل دیے جاتے ہیں، اور عوام کی رائے شامل نہیں ہوتی اس لیے شفافیت “جزوی” ہے۔ اس لئے حکومت بجٹ کی شفافیت کے لئے عوام کے اشتراک عمل سے جامع اقدامات کرے کیونکہ حقائق پر منبنی سالانہ تخمینے ملک و قوم کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button